قصہ ایک حکیم کا

اکتوبر 18, 2010 at 11:51 تبصرہ چھوڑیں

حکیم صاحب کھانے یا کھلانے کے معاملے میں حدردجے کنجوس ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کو ان کے اپنے گھروں میں بھی پیٹ بھر کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ انکے نزدیک ہر مرض کا بلکہ ہر مسئلے کا حل بھوکا رہنا ہے۔ اگر ان کا کوئی دوست کہتا ہے۔
”روئے زمین پر مجھ سے زیادہ چلنے والا کوئی نہیں اورنہ تیز دوڑنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔“
تو وہ جل بھن کر جواب دیتے ہیں: ”تمہیں اس سے کون روک سکتا ہے ؛ جب کہ تم دس آدمیوں کے برابر کھانا کھاتے ہو۔ انسان کے پاس پیٹ کے سوا اور ہے ہی کیا؟“
اگر کوئی مریض شکایت کرتا ہے: ”بخدا میں چل نہیں سکتا ، کیونکہ میں کمزور ترین آدمی ہوں۔“
تو وہ چیختے ہیں: ”تم کیسے چل سکتے ہو؟ تم نے تو پیٹ میں بیس مزدوروں سے اٹھنے والا بوجھ لاد رکھا ہے۔“
اگر کوئی شخص انکے سامنے داڑھ درد کی شکایت کرتا ہے تو وہ فرماتے ہیں:
”عجیب بات ہے کہ تجھے صرف ایک ہی داڑھ میں تکلیف ہوئی۔ اتنا کھا کھا کر آج تک تیرے منہ میں ایک دانت بھی کس طرح باقی بچا۔ بخدا شامی چکیاں بھی بوجھل ہو جاتی اور موٹے کیل بھی کوٹنے سے گھس جاتے ہیں۔ یہ بیماری تو تجھے قدرے دیر سے لگی ہے۔ بہت پہلے لگ جانی چاہئے تھی۔“
اگر کوئی کہہ دتیا ہے: مجھے تو کبھی داڑھ میں درد محسوس نہیں ہوا۔
تو وہ گویا ہوتے ہیں: ”اے پاگل ! زیادہ چبانا مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے جس سے دانت سخت ہو جاتے ہیں اور تالو پک جاتے ہیں۔“
اگر کوئی شیخی بھگارتا ہے:”میں سب سے زیادہ پانی پیتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ دنیا میں کوئی مجھ سے زیادہ پانی نہیں پیتا ہوگا۔“
تو وہ بھڑک کر کہتے ہیں : ”اگر تم دریائے فرات کا سارا پانی پی لو تو وہ بھی تمہارے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ تم اس قدر کھانا کھاتے ہو اور بڑے بڑے نوالے لیتے ہو۔ بخدا تم تو کھیلتے ہو۔ تم اپنے بارے میں کسی ایسے شخص سے پوچھو جو تمہیں سچ بتا دے تا کہ تمہیں پتہ چلے کہ دریائے دجلہ کا پانی بھی تمہارے پیٹ کے لئے کہیں کم ہے۔“
اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے: آج کے دن میں نے پانی پیاہی نہیں ہے اور کل میںنے آدھا رطل پانی پیا ہے۔ روئے زمین پر کوئی ایک انسان بھی مجھ سے کم پانی پینے والا نہیں ہے۔“
تو وہ ڈانٹ کر کہتے ہیں:”تم پانی پینے کے لئے جگہ ہی نہیں چھوڑتے۔ تعجب ہے کہ تمہیں بدہضمی کیوں نہیں ہوتی۔“
اگرکوئی مریض فریاد کرتا ہے: میں ساری رات سویا نہیں ہوں۔“
تو وہ فرماتے ہیں: تمہیں تمہاری توند، پیٹ کی گیس اور ڈکار کس طرح سونے دیں گے۔“
اگر کوئی سستی کا مارا کہتا ہے: مجھے سر رکھتے ہی نیند آجاتی ہے۔“
تو جواب ملتا ہے: ” یہ اس لئے ہے کہ کھانا سکون دیتا ہے اور سارے بدن کو ڈھیلا کر دیتا ہے۔ سچ پوچھو تو تمہیں دن رات سوئے رہنا چاہئے۔ “
اگرکوئی شکایت کرتا ہے۔
”میں صبح اٹھا تومجھے ذرا بھوک نہیں تھی۔“
تو وہ دھاڑکر بولتے ہیں: ”ارے تمہیں بھوک کس طرح ہو سکتی ہے جب کہ تم کل دس آدمیوں کا کھانا کھا چکے ہو“۔
غرض ان سے جو بات بھی کہی جاتی ہے تو وہ اس کا غصہ پیٹ اور کھانے پر نکالتے ہیں ۔ واہ رے حکیم صاحب واہ۔
Advertisements

Entry filed under: Fun Stuff : فن سٹف, Urdu Stories : اردو کہانیاں. Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , .

بال بانکا آپ کے پیا روں کے لئے بہترین دعا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • An error has occurred; the feed is probably down. Try again later.

%d bloggers like this: