Archive for اکتوبر, 2010

اے وطن کے سجیلے جوانو!!!

فوج کے بارے میں جب بھی کوئی سنتا، پڑھتا، لکھتا یا بولتا ہے تو دو چار لطیفے ہیں جوذہن میں گھوم جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھلے لوگ کہتے ہیں کہ "فوجیوں کے دو ہی اصول ہیں: پہلا یہ کہ جو شے ساکن ہو اس پر چونا پھیر دو جبکہ جو متحرک دکھے اسے سیلوٹ ٹھوک دو۔”
اہل زبان سے معافی ان الفاظ کے لئے، کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا "پھیر” دینا اور سیلوٹ "ٹھوک” دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔
نچلی رینک کے سپاہیوں کو ملاحظہ کیجیے، وہ سویرے تڑکے کے بیچ اٹھتے ہیں اور "ڈرل” کے لیے بھاگم بھاگ شروع کر دیتے ہیں۔ ناشتے میں نہ جانے کیا کھاتے ہوں گے لیکن بعد میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ منہ کی ایسے کہ ڈرل سے چھوٹے تو پریڈ اور پھر ایسی دوسری مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ان کا "اصل” کام شروع ہوتا ہے۔ حکم ملتا ہے، آپ گڑھے کھودیے، گڑھے کی تہہ پر چونا ڈال کر پھر بھر دیجیے۔ گملوں پر چونا پھیریے۔ ٹرکوں، جیپوں وغیرہ کے ٹائروں کو چمکا کر ایک بار پھر چونا پھیر دیں۔ درختوں کے تنوں کو ناپ کے حساب سے ٹھیک تین فٹ اونچائی تک گولائی میں چونا پھیرتے جائیے۔ سڑکوں، راستوں اور پگڈنڈیوں کے دونوں کناروں پر چونا ایسے پھیریے کہ ان پر پھرنے والا یہ سمجھے وہ ناک کی "سیدھ” میں پھر رہا ہے۔
اس کے علاوہ جہاں آپ کو اس روز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، وہاں بت بن کر کھڑے رہیے اور جب بھی کوئی پاس سے گذرے، چٹاخ سے سیلوٹ "ٹھوک” دیں۔ سیلوٹ ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کا ہاتھ، آپ کا ماتھا ٹھونکے اور بوٹوں کی دھمک گذرنے والے کا دماغ شل کر جائے ۔ آپ کی بندوق فوجی افسر کو یاد دلائے کہ وہ "فرعون” ہے اور عام شخص کو یہ بندوق ایسے ڈرائے کہ جیسے موت۔ سیلوٹ کا نتیجہ کچھ ایسے برآمد ہونا چاہیے کہ گذرنے والا اپنے دفتر اور کام تک پہنچتے پہچنتے کسی سدھ بدھ کا نہ رہے۔ میری ناقص رائے میں اکثر فوجی افسران کے دماغ کا سوچنے اور پھر درست انداز میں کام کرنے سے عاری ہونے کا یہی سبب ہے۔ بس ایسی ہی کچھ اور مصروفیات کے بعد یہ نچلی رینک کے اصحاب سوچتے ہوں گے کہ انھیں دن بھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھلا یہ کیسا دن تھا، امید ہے ان میں سے اکثر اپنی ان بیوقوفیوں پر ہنستے بھی ہوں۔
فوجی افسران بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کا حال تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ وہ سوچنے کے قابل تو تب ہی نہیں رہتے جب ایبٹ آباد کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب صبح صبح آٹھ دس چوندی چوندی سیلوٹوں کی دھمک ان کے دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے کام اور قوم کو چونا پھیرنے اورباقیوں کا دماغ ٹھوکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے کوئی بھی اچھی سی غیرجانبدار تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیجیے۔
مجھے شرمندگی ہے کہ اس لطیفے سے کئی دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ مجھے اس کا بھی دکھ ہے کہ یہ حقیقت ہے اور مجھے سب سے زیادہ افسوس فوجیوں کے اس رویے کا اس دن ہوا تھا جب زلزلے کے تیسرے دن معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور ایک لیفٹینیٹ نے کرنل کو مخاطب کیا اور میرے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہو کہا، "سر! اس کو اتنی تمیز نہیں کہ ایک فوجی افسر سے کیسے بات کی جاتی ہے؟” کرنل نے گردن کا سریا گھمایا تھا اور میرے بھائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، "کرنل صاحب ! آپ کے جوانوں کو اتنی تمیز نہیں کہ سویلین سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”۔ یہ واقعہ ایک خلا کو ظاہر کرتا ہے، یہ اس دیوار کو ظاہر کرتا ہے جو ہم کیڑے مکوڑے "سویلین” اور سیاست کے جرنیلوں نے اپنے فرعون "جوانوں” کے بیچ کھینچ رکھی ہے۔
جتنا افسوس مجھے تب ہوا تھا اس سے بڑھ کر مجھے خوشی کل ہوئی ہے۔ ایبٹ آباد کے فوجی ہسپتال میں فوجی جوانوں اور فوجی میڈیکل سٹاف کا رویہ نہایت قابل تحسین تھا۔ وہ نہایت مہذب انداز میں پیش آتے ہیں اور آپ کو حتی المکان سہولت فراہم کرتے ہیں اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اسی معاملے میں ایسا رویہ عوامی ہسپتالوں میں ناپید ہے۔ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا اکثریت رویہ درست ہوتا ہے لیکن باقی کے لوگ جیسے ڈسپنسر، نرسیں، قاصدین، خاکروب اور سیکورٹی کے افراد کچھ ایسا قابل تعریف رویہ روا نہیں رکھتے۔
سیاست کے جرنیل اور بندوق کی نال میں بندھے فوجی جوان بھی انسان ہیں، وہ بھی سوچتے ہیں لیکن کیا سوچتے ہیں؟ اس کا ثبوت ہماری تاریخ ہے۔ ہمارے اداروں کی دیواریں پھلانگتے فوجیوں کی وثق میں موجود تصاویر ہیں اور ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے فرعون ہیں۔ ویسے ہمارے "سویلین” حکمران بھی کسی سے کم نہیں اور بس ایسے سمجھیے کہ اسی موقع پر بالا سطور میں بیان کیا گیا لطیفہ المیہ بن جاتا ہے جب میں سیاستدانوں کے قافلوں میں آگے پیچھے بندوق والوں کو دیکھتا ہوں۔ ان بندوقوں کی نالوں اور گاڑیوں کے ہوٹروں نے سیاستدانوں کے دماغوں کو بھی ایسے ہی بند کر رکھا ہے جیسے فوجی بوٹوں کی دھمک اور چونا پھیرنے کی عادت نے سیاست کے جرنیلوں کے دماغوں کا تیاپانچہ کر چھوڑا ہے۔
جاتے جاتے ایک اور لطیفہ بھی سنتے جائیے”دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو فوج دستیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کا حساب دوسرا ہے، یہاں کی فوج کو ایک ملک دستیاب ہے!”۔
Advertisements

اکتوبر 28, 2010 at 11:08 تبصرہ چھوڑیں

تعلیم کی اہمیت

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے یہاں گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ دے۔ لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔
اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا ”تم تو جاتنے وہ رامو کاکا کے مجھے ہندی نہیں آتی ، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، ، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔
کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک سے ایک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔
Ramu Come soon Maya seriously  Hospitalized اس کامطلب ہندی میں سمجھایا۔
رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو نذر آتش کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آکر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو….باپو….باپو تم آگئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں(گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے آر (اور) ڈھیر ساری لتڑی(لکڑی) پر ستاتر آد(آگ) لدادی‘’؟ رامو نے ، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں بھگوان کے گھر چلی گئی ہے“تون (کون) بھگوان باپو“؟ وہ میں سمجھا کہ مائی ناناجی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرو نا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ دو تو وہ جلد دھر(گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے توتو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم…….. بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہہہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جوبھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

اکتوبر 25, 2010 at 10:43 2 comments

آپ کے پیا روں کے لئے بہترین دعا

 

 

اکتوبر 21, 2010 at 11:57 تبصرہ چھوڑیں

قصہ ایک حکیم کا

حکیم صاحب کھانے یا کھلانے کے معاملے میں حدردجے کنجوس ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کو ان کے اپنے گھروں میں بھی پیٹ بھر کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ انکے نزدیک ہر مرض کا بلکہ ہر مسئلے کا حل بھوکا رہنا ہے۔ اگر ان کا کوئی دوست کہتا ہے۔
”روئے زمین پر مجھ سے زیادہ چلنے والا کوئی نہیں اورنہ تیز دوڑنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔“
تو وہ جل بھن کر جواب دیتے ہیں: ”تمہیں اس سے کون روک سکتا ہے ؛ جب کہ تم دس آدمیوں کے برابر کھانا کھاتے ہو۔ انسان کے پاس پیٹ کے سوا اور ہے ہی کیا؟“
اگر کوئی مریض شکایت کرتا ہے: ”بخدا میں چل نہیں سکتا ، کیونکہ میں کمزور ترین آدمی ہوں۔“
تو وہ چیختے ہیں: ”تم کیسے چل سکتے ہو؟ تم نے تو پیٹ میں بیس مزدوروں سے اٹھنے والا بوجھ لاد رکھا ہے۔“
اگر کوئی شخص انکے سامنے داڑھ درد کی شکایت کرتا ہے تو وہ فرماتے ہیں:
”عجیب بات ہے کہ تجھے صرف ایک ہی داڑھ میں تکلیف ہوئی۔ اتنا کھا کھا کر آج تک تیرے منہ میں ایک دانت بھی کس طرح باقی بچا۔ بخدا شامی چکیاں بھی بوجھل ہو جاتی اور موٹے کیل بھی کوٹنے سے گھس جاتے ہیں۔ یہ بیماری تو تجھے قدرے دیر سے لگی ہے۔ بہت پہلے لگ جانی چاہئے تھی۔“
اگر کوئی کہہ دتیا ہے: مجھے تو کبھی داڑھ میں درد محسوس نہیں ہوا۔
تو وہ گویا ہوتے ہیں: ”اے پاگل ! زیادہ چبانا مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے جس سے دانت سخت ہو جاتے ہیں اور تالو پک جاتے ہیں۔“
اگر کوئی شیخی بھگارتا ہے:”میں سب سے زیادہ پانی پیتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ دنیا میں کوئی مجھ سے زیادہ پانی نہیں پیتا ہوگا۔“
تو وہ بھڑک کر کہتے ہیں : ”اگر تم دریائے فرات کا سارا پانی پی لو تو وہ بھی تمہارے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ تم اس قدر کھانا کھاتے ہو اور بڑے بڑے نوالے لیتے ہو۔ بخدا تم تو کھیلتے ہو۔ تم اپنے بارے میں کسی ایسے شخص سے پوچھو جو تمہیں سچ بتا دے تا کہ تمہیں پتہ چلے کہ دریائے دجلہ کا پانی بھی تمہارے پیٹ کے لئے کہیں کم ہے۔“
اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے: آج کے دن میں نے پانی پیاہی نہیں ہے اور کل میںنے آدھا رطل پانی پیا ہے۔ روئے زمین پر کوئی ایک انسان بھی مجھ سے کم پانی پینے والا نہیں ہے۔“
تو وہ ڈانٹ کر کہتے ہیں:”تم پانی پینے کے لئے جگہ ہی نہیں چھوڑتے۔ تعجب ہے کہ تمہیں بدہضمی کیوں نہیں ہوتی۔“
اگرکوئی مریض فریاد کرتا ہے: میں ساری رات سویا نہیں ہوں۔“
تو وہ فرماتے ہیں: تمہیں تمہاری توند، پیٹ کی گیس اور ڈکار کس طرح سونے دیں گے۔“
اگر کوئی سستی کا مارا کہتا ہے: مجھے سر رکھتے ہی نیند آجاتی ہے۔“
تو جواب ملتا ہے: ” یہ اس لئے ہے کہ کھانا سکون دیتا ہے اور سارے بدن کو ڈھیلا کر دیتا ہے۔ سچ پوچھو تو تمہیں دن رات سوئے رہنا چاہئے۔ “
اگرکوئی شکایت کرتا ہے۔
”میں صبح اٹھا تومجھے ذرا بھوک نہیں تھی۔“
تو وہ دھاڑکر بولتے ہیں: ”ارے تمہیں بھوک کس طرح ہو سکتی ہے جب کہ تم کل دس آدمیوں کا کھانا کھا چکے ہو“۔
غرض ان سے جو بات بھی کہی جاتی ہے تو وہ اس کا غصہ پیٹ اور کھانے پر نکالتے ہیں ۔ واہ رے حکیم صاحب واہ۔

اکتوبر 18, 2010 at 11:51 تبصرہ چھوڑیں

بال بانکا

ایک عورت ایک دن ہمجولیوں کے درمیان
کررہی تھی اپنے شوہر کی بیاں کچھ خوبیاں
کہہ رہی تھی زور دے کر اس کے فرضی واقعات
سن رہی تھیں غور سے محفل میں ساری ناریاں
جب وہ بولی بال بانکا ان کا ہو سکتا نہیں
سب نے یہ سمجھا کہ عورت کر رہی ہے شیخیاں
اک سہیلی نے یہ پوچھا کر کے لہجہ طنزیہ
کیا بہادر ہیں زیادہ آپ کے شوہر میاں
وہ یہ بولی ہنس کے پیاری کیا کہوں میں آپ سے
بات جو میں کہہ رہی ہوں اس کو سمجھو میری جاں
صرف یہ مطلب ہے میری سیدھی سچی بات کا
اے مری ہمجولیوں! ہیں گنجے بے چارے میاں

اکتوبر 14, 2010 at 10:46 تبصرہ چھوڑیں

میاں محمد بخش (1824-1907)

میاں محمد بخش پنجاب میں عربی ، فارسی روایت کے آخری معروف ترین صوفی شاعر تھے۔ آپ کی ولادت 1824ء میں میرپور کے علاقہ کھڑی شریف میں ہوئی۔ آپ نے اس علاقے کی مشہور دینی درسگاہ سمر شریف میں تعلیم حاصل کی ۔ حافظ غلام حسین سے علم حدیث پڑھا۔ حافظ ناصر سے دینی علوم کے علاوہ شعر و ادب کے رموز سے بھی آشنائی حاصل کی۔ جلد ہی عربی اور فارسی زبانوں میں عبور حاصل کر لیا۔ اس کے بعد پنجاب بھر کا سفر کیا اور علماء اور مشائخ سے ملاقاتیں کیں ۔واپس آکر ضلع میرپور ہی میں سائیں غلام محمد کے مرید ہوئے۔ آپ کی دانست میں مرشد کامل کا اہم وصف محض صاحب کرامات ہونا ہی نہیں، بلکہ حسن واخلاق کی بلندی کو چھونا بھی ہے۔

میاں محمد بخش حاکمانِ وقت سے دور دور رہتے تھے۔ اکابرین کی سیرت نے آپ کی زندگی میں روحانی انقلاب برپا کر دیا تھا۔ آپ موسیقی کے دقیق رموز پر بھی ماہرانہ نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ کی شاعری میں موسیقیت بدرجہ اتم رچی ہوئی ہے۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ آپ نے جس عہد میں آنکھ کھولی، وہ بڑا پر آشوب دور تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی، انگریزوں کا کشمیر کو سکھ مہاراجہ کے حوالے کرنا ، سکھوں کے پنجاب بھر میں مظالم انہی کے دور میں ہوئے۔

آپ کی شاعری ، فکر اور مطالعے کے ڈانڈے قرآن و حدیث، فارسی شعراء عطار ، رومی ، جامی کے علاوہ منصور حلاج اور خواجہ حافظ سے لے کر پنجابی شعراء تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری میں تصوف ہندی اور ایرانی روایت کو جذب کر کے ذاتی اور اجتماعی سوز و گداز کے فیضان سے فکر انگیز اور دلکش پیرائے میں ڈھالا ہے۔ ابن عربی اور مولانا روم کی صوفیانہ روایت ، پنجابی شاعری کی روایت کے اثر سے دو آتشہ ہوگئی ہے۔ آپ کی تخلیق کردہ مشہور داستان ”سفر عشق“ جو کہ قصہ سیف الملوک کے نام سے معروف ہے آپ ہی کے افکار و تخیلات کا پر تو نظر آتی ہے۔ آپ کی شاعری کی تین خصوصیات ہیں، سوزوگداز، پندونصائح کے شائبے کے بغیر لطیف پیرا یہٴ اظہار اورتمثیلی انداز۔

ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود کی آپ ایسی تعبیر کے حامی ہیں، جو ذرّے ذرّے میں جمالِ حقیقی سے روشناس کرواتی ہے۔ انسان کو تعصبات اور فخر وغرور سے بچاتی ہے۔ اسی رویے نے آپ کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی پیدا کی ہے اور فکر کو وسیع اور ہمہ گیر بتایا ہے۔ آپ نے خارجی احوال و کوائف کی ترجمانی کے علاوہ من کی دنیا کی سیاحت بھی کی ہے۔

خارجی اور داخلی زندگی آپ کی شاعری میں الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط نظر آتی ہیں۔ آپ کے مطابق جیتے جی مرجانا اور مر کر بھی جیتے رہنا ہی فقر ہے۔ آپ اپنی شاعری میں عمل پر بہت زور دیتے ہیں، کیونکہ عمل کے بغیر کوئی بھی کام پورا نہیں ہوتا۔ آپ کی تصنیف ”قصہ سیف الملوک “ کی ساری کی ساری فضا عمل پر ہی قائم کی گئی ہے۔

میاں محمد بخش کا انتقال 1907ء میں ہوا ۔

اکتوبر 11, 2010 at 08:17 تبصرہ چھوڑیں

کر بھلا تو ہو بھلا

کہتے ہیں کہ ایک بڑی سی مرغی نے ایک بڑے سے ٹوکرے میں بہت سی گھاس پھوس اکٹھا کی اور نرم سی گھاس پر بیٹھ کر بہت سے سفید سفید انڈے دیئے اور پھر دن رات ان انڈوں پر بیٹھنا شروع کیا۔ ایک ہفتہ گزرا، دو گزرے، تین گزرے اور کہیں اکیسویں دن یہ انڈے کھٹ کھٹ ٹوٹنا شروع ہوگئے،ہر انڈے سے ایک ننھا منا سا چوزہ نکلا، ان کے چھوٹے چھوٹے پر تھے۔ یہ چوزے نازک تھے، خوبصورت تھے ہر چوزہ روئی کا گالا دکھائی دیتا تھا۔ مرغی خوش تھی پر پریشان بھی تھی ایک انڈا رہ گیا جس سے ابھی کچھ بھی نہ نکلا تھا۔ بے چاری ماں اسے بھی اپنے پروں سے گرمی پہنچا رہی تھی اور پھر ایک دن اس میں سے بھی ایک ایسا ہی بچہ نکلا۔ ایک ننھا منا سا چوزہ، پر اس چوزے کی ایک ہی ٹانگ تھی، ایک ہی آنکھ تھی، یہ چوزہ بےحد شریر تھا۔ ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا۔
اماں میں گھر میں نہیں رہوں گا، میں جارہا ہوں یہاں سے، بادشاہ کا محل دیکھنے کے لئے اور پھر وہاں جا کر بادشاہ سلامت سے بھی ملوں گا۔
مرغی نے کہا ارے میرے پیارے! میرے ننھے لنگٹو ، کیسی باتیں کرتا ہے۔ مجھے ایسی باتوں سے ڈر لگتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو چاہئیے کہ آرام سے گھر پر رہیں اور اپنی ماں کے پروں میں خوب خوب گرم گرم راتیں بسر کریں۔
چوزے نے کہا نہیں میں جارہا ہوں۔
مرغی نے کہا رک جاو، رک جاو، تمہارے لئے آگے جانا مشکل ہوگا۔ چوزے نے کہا مشکل کیوں؟
مرغی نے کہا تمہاری صحت اور تمہارے جسم کی بناوٹ کی وجہ سے تم تھک جاؤ گے۔
چوزے نے کہا جو ڈرتے ہیں وہ آگے بڑھ نہیں سکتے، میں جارہا ہوں، مجھے خوشی خوشی جانے دو۔
مرغی نے کہا کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے
چوزے نے کہا ہاں، خدا حافظ
اور پھر چوزہ اچک اچک کر مسکراتے ہوئے چل پڑا۔ ایک جگہ آگ جل رہی تھی وہ جلتی ہوئی آگ کے قریب آیا، اپنے آپ کو گرم کیا اور جب جانے لگا تو آگ بول اٹھی….
آگ نے کہا میاں لنگڑے ذرا اپنی ننھی سی چونچ سے چند تنکے اٹھا کر لاؤ اور مجھے دے دو تاکہ میں ذرا دیر تک جل سکوں اور اس راستے سے گزرنے والوں کو گرمی دے سکوں۔
چوزے نے کہا نہیں میرے پاس وقت نہیں ہے، میں جلدی میں ہوں۔
آگ نے کہا کیسی جلدی؟ کہاں جانا ہے تم کو۔
چوزے نے کہا بادشاہ سلامت کے پاس، آگ نے کہا تم ہوش میں تو ہو نا۔
چوزے نے کہا ہاں میں جو کہہ رہا ہوں ٹھیک ہی کہہ رہا ہوں۔
آگ نے کہا ذرا لمحہ بھر رکو اور میری مدد کرو
چوزے نے کہا نہیں میں کسی کی مدد نہیں کرتا۔
کچھ اور آگے چل کر چوزے کو ایک چھوٹا سا چشمہ دکھائی دیا، اسے پیاس لگی تھی، پہلے اس نے اپنی پیاس بجھائی، پھر ادھرا دھر دیکھا، چشمے کا پانی راستے کی جانب سرک رہا تھا جس کی وجہ سے چلنا دشوار بن رہا تھا۔ چشمے نے کہا۔
چشمہ:  بجھ گئی پیاس؟ میرا پانی تو بہت ٹھنڈا ہے۔
چوزہ ہاں پیاس تو بجھ گئی۔
چشمے نے کہا میاں لنگڑے! میرا ایک چھوٹا سا کام کرو گے۔
چوزہ: کیا کام ہے؟
چشمےنے کہا دیکھو میرے راستے میں دو چار کنکر پڑے ہیں جن کی وجہ سے پانی سڑک کی طرف جارہا ہے۔ ان کنکروں کو اپنی چونچ سے ہٹادو تاکہ میں آرام سے بہہ سکوں۔
چوزے نے کہا میں یہ کام نہیں کر سکوں گا، مجھے بہت دور جانا ہے، میں بادشاہ کا محل دیکھنے جارہا ہوں….
بھلایہ لنگڑا چوزہ کسی کی بات سنتا ہے، سنی ان سنی کر کے آگے بڑھتا جارہا ہے، شکر ہے کہ اس کی ایک ہی ٹانگ ہے اگر دونوں ٹانگیں ہوتیں تو شاید…. یہ خود ہی بادشاہ سلامت بننے کا اعلان کرتا۔ بہرحال ابھی بادشاہ کا محل دور تھا۔ چلتے چلتے اسے کانٹوں سے بھری ایک جھاڑی ملی۔ جھاڑی کے کانٹوں میں ہوا کا دامن پھنس گیا تھا اور وہ ادھر سے ادھر نکل نکل کر چل رہی تھی، اس نے مرغی کے بچے کو دیکھا تو بولی ”میاں لنگڑے مسافر مجھ پر رحم کر اور مجھے اس جھاڑی سے نکال کر اپنی رحم دلی کا اظہار کر، اس جھاڑی کے کانٹے بڑے تیز ہیں“مگر حسب معمول میاں لنگڑے نے ایک نہ سنی ، اپنا سر ہلایا، اور ہوا سے بھی وہی جلدی کا بہانہ بنا کر آگے چل دیا اور کودتے پھاندتے بادشاہ کے محل پہنچ گیا۔ اس دوران بادشاہ کا باورچی ایک چوزہ پکڑنے نکلا تھا۔ بادشاہ سلامت کے ناشتے کے لئے. اس نے یہاں لنگڑے کو اچکتے دیکھا تو جھٹ سے پکڑ لیا اور دیگچی میں ڈال کر دیگچی کو آگ پر چڑھا دیا، میاں چوزے نے چلا کر کہا….
چوزے نے کہا دہائی ہے، دہائی ہے۔ آگ، بادشاہ سلامت کی دہائی ہے، مجھے مت جلاو
آگ نہیں نہیں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کروں گی، جب مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑی تھی تو تم جلدی میں تھے اور اب مجھے جلدی ہے۔
اتنی دیر میں باورچی لوٹ آیا، اس نے ڈھکن اٹھا کر دیکھا تو اسے چوزہ پسند نہیں آیا کیونکہ اس کی صرف ایک ہی ٹانگ تھی اور اگر بادشاہ سلامت دوسری ٹانگ کے بارے میں پوچھے گا تو وہ کیا جواب دے گا۔ اس کی بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ باورچی نے چوزے کو دیگچی سے نکال کر باہر پھینک دیا، باورچی خانے میں پانی کی ایک نالی تھی، لنگڑا چوزہ اس کے پاس گیا۔
چوزے میاں پانی سے! تمہیں بادلوں کی قسم ذرا مجھے ٹھنڈا کرو، میں بالکل جل گیا ہوں۔
چشمے نے کہا لنگڑے، جب مجھے تمہاری ضرورت تھی تو تم جلدی میں تھے اور میری کوئی مدد نہیں کی حالانکہ اس وقت بھی میں نے تمہاری پیاس بجھائی تھی۔
چوزے نے کہا یہ دیکھو، یہاں سے ہوا چل رہی ہے، مجھے ڈر ہے کہ ہوا کا یہ جھونکا مجھے باہر نہ پھینک دے۔ اے ہوا! میری مدد کر، مجھ پر رحم کھا، میںا س شہر میں اجنبی ہوں، میرا یہاں کوئی نہیں۔
ہوا:  یاد ہے نا، جب میں نے تم سے مدد کے لئے التجا کی تھی اور اب…. مجھ سے مدد چاہتے ہو، اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے ہو اور مجھے بے وقوف اور پھر…. ابھی تو تم کو بادشاہ سلامت سے بھی ملنا ہے۔
چوزہ نہیں، میں اب کسی سے ملنا نہیں چاہتا…. مل کر مجھے کیا ملے گا۔
ہوا نے کہا اور میرے پاس بھی وقت نہیں…. میں جارہی ہوں۔
اور یہ کہتے ہوئے ہوا نے زور سے اوپر کا رخ کیا تو میاں چوزہ ایک مینار کی چوٹی پر جا کر اٹک گیا اور ابھی تک وہیں پر لٹکا ہوا ہے اور اب مرغی کا کوئی اور بچہ اگر اس کے پروں سے نکل کر ادھر ادھر چلا جاتا ہے تو وہ دکھیاری مرغی ٹھنڈی سانس بھرتی ہے اور ان سب کو لنگڑے بھائی کی کہانی سناتی ہے۔ اس کی خود غرضی کی کہانی، دوسروں کی مدد نہ کرنے کی داستان، کسی نے سچ کہا ہے…. کر بھلا تو ہوا بھلا۔ تم دوسروںکا بھلا چاہو، دوسرے خود ہی تمہارا بھلا چاہیں گے۔

اکتوبر 7, 2010 at 10:50 1 comment

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]