اردو زبان کی ابتداء اور ارتقائی مراحل

ستمبر 1, 2010 at 05:18 2 comments

تاریخ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ قبل مسیح کے زمانےمیں ہندوستان میں مختلف قومیں آکر آباد ہوتی رہیں ہیں،جن میں سے ایک وسط ایشیا کی آریا قوم بھی تھی جس نے شمالی ہند کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس زمانے میں ہندوستان میں مختلف زبانیں بولی جاتی تھیں جن میں تامل،اوڑیا،تلیگوان وغیرہ زیادہ مشہور زبانیں ہیں۔آریا لوگ قدآور ،بہادر اور خوش شکل تھے اور انہیں اپنے حسب نسب کے علاوہ اپنی زبان پر بڑا مان تھا چنانچہ انہوں نے چند قوائد و ضوابط ترتیب دے کر اپنی زبان کو سنسکرت کا نام دیا اور اسے ایک اعلٰی درجے کی زبان سمجھنے لگے لیکن سنسکرت کے مخارج اور تلفظ کو مفتوح قوم زیادہ دیر قائم نہ رکھ سکی اور مختلف زبانوں کے میل سے ایک نئی زبان نے جنم لیا جسے پراکرت کہا گیا۔تقریبا ڈیڑھ ہزار سال تک لوگ پراکرت زبان ہی بولتے رھے لیکن جب راجہ بکرماجیت گدی پر بیٹھا تو اس نے سنسکرت زبان کو دوبارہ زندہ کرنا چاہا جو کہ دیوتاؤں کی زبان سمجھی جاتی تھی،راجہ کی مدد سے بڑے بڑے پنڈت سنسکرت میں کتابیں لکھنے لگے اور سنسکرت پھر ہندوستان کی علمی زبان بن گئی تاہم عام لوگوں کی زبان اب بھی پراکرت ہی تھی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد تک ہندوستان میں تقریبا اکیس، بائیس پراکرت زبانیں بولی جاتی رہیں،ان میں سے ایک زبان “سوراسنی ” کا نام بدل کر برج بھاشا پڑ گیا،اس زبان کا دائرہ بہت وسیع تھا اور اردو زبان بھی اسی برج بھاشا کی ارتقائی شکل ہے۔

راجہ اشوک اور اردو زبان
ہندوستان کا مشہور بدھ مت کا پرستار راجہ اشوک بھی یہی زبان بولتا تھا،اس نے جنگ کی ہولناکیوں اور قتلِ عام کو دیکھتے ہوئےبدھ مت اختیار کر لیا اور جنگ سے توبہ کر لی۔ اس نے نربد اور گنگا سے لے کر دریائے سندھ اور اٹک تک بدھ مت کے بڑے بڑے سٹوپا تعمیر کیے جن پر اسی برج بھاشا میں بدھ مت کے زریں اصول کندہ کروائے، یہ سٹوپا آج بھی ٹیکسلا کے عجائب گھر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اس سے بھی پہلے 335 سال قبل از مسیح میں سکندر اعظم نے ھندوستان پر حملہ کیا تھا تو بھی یہی برج بھاشا ہی بولی جاتی تھی ۔سکندر نے جب پورس کو شکست دینے کے بعد اس سے پوچھا کہ تم سے کیا سلوک کیا جائے تو پورس نے اسی برج بھاشا میں کہا تھا کہ ” وہی سلوک جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے کرتا ھے”
ھندوستان میں داخل ہونے والے مسلمان فاتحین ترک،افغان اور مغل تھے وہ اپنے ساتھ اپنی اپنی زبانوں کی روایات،اصولِ صرف و نحو اور معاشرتی آداب بھی لائے تھے. یہ لوگ زیادہ تر فارسی بولتے تھے یا پھر ان کی زبان میں فارسی زبان کی آمیزش زیادہ تھی اور اسطرح بہت سے عربی اور ترکی الفاظ کی آمیزش سے ایک نئی طرز کی برج بھاشا وجود میں آئی۔
انہی مغلوں کے زمانے میں “اردو” کا لفظ رائج ہوا جو کہ لشکر کے معنوں میں استعمال ہونا شروع ہوا تھا اور مغلیہ بادشاہوں کے شاہی فرمانوں اور سکوں پر بھی اردو لشکر کے معنوں میں ھی لکھا جاتا رہا۔
“بابر” اپنے ایک فارسی شعر میں اپنی فوج کو “اردوئے نصرت شعار ” لکھتا ہے. شہنشاہ جہانگیر نے دلی سے کشمیر کی طرف سفر کرتے ہوئے راستے میں ایک سکہ بنوایا اور اس پر یہ شعر کندہ کروایا

بادِ رواں تاکہ بودمہروماہ             سکہ اردوئے جہانگیر شاہ

مغل شہنشاہوں کے زمانے میں شاہی لشکر یا لشکرگاہ کو اردوئے معلی کہتے تھے،پھر جس بازار میں فوج کے سپاہی خرید و فروخت کیلئے جاتے تھے اسے اردو بازار کہا جانے لگا مگر اس زمانے تک لشکری جو زبان آپس میں بولتے تھے اسے اردو نہیں کہا جاتا تھا بلکہ زبانِ ہندی ہی کہا جاتا تھا. اس زبان کی سب سے پہلی تحریر”امیر خسرو دہلوی” کی ملتی ہے جو 653 ہجری کا زمانہ ہے اور وہ اپنی کتاب میں اپنے اردو کلام کو ہندوی کلام کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں صدی کا زمانہ اردو زبان کا تشکیلی دور تھا،اس زمانے میں ہندو مسلم سنتوں اور صوفیوں نے عوام کی زبان میں ہیان سے گفتگو شروع کی،ان میں خواجہ بندہ نواز ، سید محمد حسین گیسو دراز، امیر خسرو، شیخ بو علی قلندر، شیخ شرف االدین یحییٰ منیری، شاہ میراں جی شمس العشاق، کبیر داس، گرو نانک، شیخ عبدالقدوس گنگوہی وغیرہ شامل ہیں،اس دور کی اردو میں ہندی کے الفاظ کی بہتات ہے۔
گجرات کی فتح کے بعد اس دور کی اردو جو گجری کہلاتی تھی کو کافی ترقی ملی پھر علاوالدّین خلجی کے حملے کے ساتھ دکن میں پہنچی اور جب ضسن گنگوبہمنی نے بہمنی سلطنت قائم کی تو اردو کو سرکاری زبان قرار دیا. ڈاکٹر نصیرالدین ہاشمی اس دور کی اردو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛”اس دور میں دکنی زبان یا قدیم اردو بول چال کی زبان سے گزر کر تحریر کی صورت میں آگئی تھی، جو نمونے نثر اور نظم کے ملتے ہیں ان میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اس میں ہندی کے الفاظ زیادہ تھے”۔
تحقیق سے پتہ چلتا ھے کہ مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد تک اردو کا لفظ بہ معنی زبان رائج نہیں تھا اس کے برعکس جہاں جہاں بھی زبان کے مفہوم کو واضح کرنے کی ضرورت پیش آئی وہاں زبانِ ہندی یا زبانِ ریختہ کی ترکیب استعمال کی گئی۔”ریختہ” کے لغوی معنی تو ایسی شے کے ہیں جو گری پڑی ملی ہو۔ اہلِ فارس کے شعراء اس نظم کو نظمِ ریختہ لکھتے تھے جس میں دوسری زبانوں کے الفاظ زیادہ ہوں چونکہ اس دور کے شعراء کے کلام میں ہندی اور فارسی کا امتزاج بہت زیادہ تھا اسلیئے اسے نظمِ ریختہ کہا جانے لگا اور یہ رواج انیسویں صدی عیسوی تک مروّج رہا،جیسا کہ میر لکھتے ہیں.

خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے

معشوق جو تھا اپنا،باشندہ دکن کا تھا

“میر ‘ کے اس شعر سے اندازہ ہوتا ھے کہ ریختہ کہنے کا عام رواج دہلی سے پہلے دکن میں ہوا تھا۔
یہاں تک کہ مرزا غالب کے زمانے میں اردو کیلئے یہی لفظ ریختہ استعمال ہوتا تھا خود وہ فرماتے ہیں،ریختہ کے تم ہی نہیں استاد غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا اسی طرح مغلوں کے عہد میں یورپ کی بعض قومیں بھی ہندوستان آیئں اس لئے کچھ پرتگالی اور فرانسیسی الفاظ بھی اردو میں شامل ہوتے گئےاور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ سودا اور میر تک آتے آتے اردو پورے ہندوستان میں پھیل گئی اور اس کا تلفّظ بھی کافی صاف ہوگیا، انشاء کے زمانے میں انگریزی الفاظ کے اضافے کے ساتھ زبان میں مزید وسّعت آتی گئی، بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ماتحت فورٹ ولیم کالج کا قیام کلکتہ میں عمل میں آیا تو اردو زبان کو کافی ترقی ملی اور اسی عہد میں باغ و بہار ،آرائشِ محفل ،باغ اردو ،سنگھاسن بیتسی وغیرہ آسان اور دلکش انداز میں لکھی گئیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخبارات و رسائل کی وجہ سے اردو زبان کو مزید ترقی ملی اور زبان میں نئے الفاظ اور محاورات و اصطلاحات کا اضافہ ہوتا گیا۔ اردو زبان کی تشکیل میں مخلوط قوموں کے مشترکہ تہزیبی و ثقافتی اثرات معاون رہے ہیں اور آج یہی زبان برصغیر کی نمائندہ زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔

Entry filed under: Urdu Adab : اردو ادب. Tags: , , , , , , , , , , , , .

آخری عشرے کی فضیلت و عظمت بچپن کی آرزو

2 تبصرے Add your own

  • 1. Sofia  |  ستمبر 7, 2010 کو 06:17

    Nice work. Waqai main Urdu zuban ke tehzeeb bohat zayada wasi hai. Magar koi is bare main kuch nahe janta. Aise batain waqai samne ani cahheyain. Take sab ko in ke bare main pata cahle.

    جواب دیں
  • 2. osama  |  دسمبر 4, 2010 کو 10:38

    aap ke web ky font bohat small hain….plz.font size big karai

    thanks..

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: