Archive for ستمبر, 2010

احمد فراز کی شاعری

Advertisements

ستمبر 30, 2010 at 12:47 2 comments

جلال الدین محمد رومی (1207-1273)

مولانا جلال الدین محمد رومی ایران ہی کے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے سب سے جلیل القدر صوفی شاعر ہونے کا امتیازی مقام رکھتے ہیں ۔ رومی ساتویں صدی ہجری کے ایسے بزرگ ہیں جن پر عملاً صوفیت کے عہد زریں کی انتہا ہوتی ہے ۔ انہوں نے درویشوں کے ایک ایسے سلسلے کی بنیادء ڈالی جو” مولویہ“ یا جلالیہ کے نام سے مشہور ہوا اور جنہیں اہل یورپ رقصاں درویش کہتے ہیں ۔ عرب و عجم کی محفلیں آج بھی مولانا روم کے ذکر سے منور ہیں اور تاقیامت چمکتی رہیں گی ان کی مشہور عالم اور زندہ جاوید مثنوی اہل نظر اور صاحبانِ باطن کیلئے سرمایہ تسکین اور راحت دل و جان ہے جس سے بندگان خدا عشق و عمل اور حیات و عالم کی حقیقت سمجھتے ہوئے روحانی فیض پاتے ہیں اور شعور و آگہی کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں ۔

آپ کا روشن کلام اسرار و رموز کا ایک خزینہ اور معرفت و عرفان کا ایک گنجینہ ہے۔ اس لحاظ سے مولانا رومی ایک ایسے عہد ساز اور عصر آفرین انسان ہیں جن پر تاریخ اسلام اور تاریخ عالم کو ہمیشہ ناز رہے گا ۔آپ کا نام نامی محمد، لقب جلال الدین اور عرف مولانا روم ہے ۔ آپ 6 ربیع الاول 604ھ بمطابق 1207کو بمقام بلخ ( خراسان ) آپ کی ولادت ہوئی ۔ چونکہ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ روم میں گزرا ، اِس لئے آپ نے مولانا روم کے نام سے شہرت پائی ۔

ستمبر 29, 2010 at 04:29 تبصرہ کریں

حضرت بابا بلھے شاہ کا صوفیانہ کلام

حضرت بابا بلھے شاہ کا صوفیانہ کلام ادبی دنیا میں کسی نعمت سے کم نہیں. آپ نے اپنے کلام میں تمام انسانوں کے درمیان پیدا کردہ تفریق اور تقسیم کی نفی کی ہے۔ آپ ملک، قوم، نسل، مذہب، فرقے سے بلند ہوکر سوچتے تھے اس لیے آپ کا پیغام آفاقی قدروں کی نمائندگی کرتا ہے. آپ کا صوفیانہ کلام بہت سے گلوکاروں نے گایا ہے. آپ کا مشہور کلام تیرے رنگ رنگ اور تیرے عشق نچایا بھی بہت سے مشہور گلوکاروں نے گایا ہے. یہاں آپ کے لیے ابرارالحق اور عابدہ پروین کی آواز میں بابا بلھے شاہ کا صوفیانہ کلام پیش کیا جا رہا ہے. امید ہے آپ انہیں سن کر لطف اُٹھائیں گے.

تیرے رنگ رنگ (ابرارالحق)

تیرے عشق نچایا (عابدہ پروین)

ستمبر 27, 2010 at 09:19 تبصرہ کریں

شاہ حسین (1539- 1594)

ربا میرے حال دا محرم توں

اندر توں ایں باہر توں ایں

روم روم وچ توں

عشقِ حقیقی میں ڈوبی ہوئی یہ آواز ایک درویش صفت اور مست الست انسان کی آواز ہے جو آج سے تقریبا ساڑھے چار سو سال قبل خطہ پنجاب میں گونجی اور پھر دیکھتے دیکھتے پاک و ہند میں پھیل گئی۔ یہ آواز شاہ حسین کی آواز تھی جنہیں مادھو لال کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ شاہ حسین پنجاب کے ان سرکردہ صوفیاء میں سے ہیں جنہوں نے برصغیرمیں خدا کی وحدانیت کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ آپ کے دادا ہندو تھے، والد حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور نام شیخ عثمان رکھا گیا۔ لاہور کے ٹکسالی دروازے میں رہائش پذیر ہوئے یہیں 1539ء میں شاہ حسین پیدا ہوئے۔ یہ زمانہ سلطنت مغلیہ کے مرکزی علاقوں میں احیائے دین کی تحریکوں کا زمانہ تھا جس کا ردِعمل قادریہ مسلک کی صورت میں مروجہ صوفیانہ بغاوت کے علمبردار کے حیثیت سے سامنے آیا۔ اس مسلک کی تشکیل میں بھگتی اثرات کے علاوہ ملامتی مکاتیبِ فکر نے بھی حصہ لیا تھا اور اس نظام فکر کا اولین اظہار شاہ حسین کی صوفیانہ بغاوت کی صورت میں ہوا۔

آپ کے گھرانے میں ہندو ثقافتی اور مذہبی اثرات بدستور موجود تھے۔ شاہ حسین پیشہ کے اعتبار سے بافندے تھے اور آپ نے اپنے اس طبقاتی پس منظر کا کھلے دل کے ساتھ اظہار بھی کیا۔ جنیوٹ کے قادری صوفی شیخ بہلول نے آپ کو اپنے حلقے میں شامل کر لیا اور شاہ حسین کے شب وروز عبادتوں اور ریاضتوں میں بسر ہونے لگے۔ یہ سلسلہ چھتیس برس جاری رہا۔ انہی دنوں شیخ سعد اللہ نامی ایک ملامتی درویش لاہور آنکلے۔ وہ کامل ملامتی تھے۔ شاہ حسین نے ان کی صورت میں جب بغاوت کو مجسم دیکھا تو ان کے گرویدہ ہو گئے اور ان کی صحبت میں شاہ حسین مدہوش ہوتے گئے۔ شیخ بہلول حدود سے اس حد تک تجاوز کو پسند نہ کرتے تھے مگر شاگرد”اصلاح “ کے مقامات سے گذر چکا تھا۔ آپ رقص کرتے، وجد میں رہتے ، دھمال ڈالتے اور لال رنگ کے کپڑے پہنتے۔ اسی بنا پر لال حسین کے نام سے مشہور ہو گئے۔ اور اپنے حال میں مست رہے۔ انہی دنوں ایک برہمن زادے نے ان کی خود اعتمادی ، خود پرستی اور حق شناسی کے آئینے کو ایک ہی نظر میں چور چور کر دیا۔ شاہ حسین اس کے پیچھے ہو لیے۔ کئی برس اسی تعلق میں گزار دیے ۔ بالآخر حسین کا معرکہ عشق کی کامیابی پر ختم ہوا، اور مادھو نے اپنا دین ایمان دوست پر نچھاور کر دیا اور زندگی ان کی دلجوئی کے لئے وقف کر دی۔

پنجاب کے اکثر صوفی دانشوروں کی طرح حسینی فکر بھی عقلاتی سطح پر معلوم نہیں ہوتا بلکہ حسی سطح پر رہتا ہے۔ شاہ حسین نے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا اور موسیقی آمیز شاعری کے ذریعے اپنے افکار وتعلیمات کو خاص و عام تک پہنچایا۔ صوفیانہ اظہار کی یہ صورت بعد ازاں پنجاب کی شاعری میں ایک مستقل صنف بن گئی۔ آپ صاحب حال صوفی تھے آپ پر جو کیفیات گزرتیں، سادہ زبان میں بیان کر دیتے۔ قوتِ مشاہدہ، قرآن وحدیث کی تعلیمات اور فقہ کے مطالعے کی بدولت آپ کی شاعری کے سادہ الفاظ میں بھی گہرے معانی پائے جاتے ہیں اور آپ کی کافیوں میں استعمال کیے گئے عام الفاظ علامتوں کا روپ دھار چکے ہیں۔ شاہ حسین کا جسم ملامتی تھا اور روح قادری، اور ان کی روز مرہ زندگی ملامتیہ زندگی میں رچی ہوئی تھی۔ آپ کے مطابق طالب اور مطلوب کے درمیان رابطے کے لئے کسی تیسری ذات کی موجودگی اور اس کا فعال تعاون بے حدی ضروری ہے۔

تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ مغلیہ حاکموں کی بہت سی بیگمات اور شہزادیاں شاہ حسین کو اپنا بزرگ مانتی تھیں مگر شاہ حسین شاہی خانوادے کے اِس التفات سے بے نیاز تھے اور اپنے ڈھنگ کی زندگی بسر کرتے تھے۔ لاہور میں برس ہا برس تک درویشانہ رقص و سرود کی محفلیں آباد کرنے کے بعد یہ درویش 1594ء میں اللہ کو پیارے ہوئے.

ستمبر 23, 2010 at 07:44 4 comments

فراق گور کھپوری

(1) ڈاکٹر اعجاز حسین الٰہ آباد یونیورسٹی میں غزل پڑھا رہے تھے۔ فراق صاحب بھی وہاں بیٹھے تھے۔انہوں نے ڈاکٹر اعجاز حسین سے پوچھا:

ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ غزل گو شعراء عام طور سے بد کردار ہوتے ہیں۔

اعجاز صاحب برجستہ بولے: ان کے سامنے آپ کی مثال رہتی ہے۔

کلاس میں ایک زبردست قہقہہ پڑا اور فراق صاحب کی آواز قہقہوں میں دب گئی،جو اب بھی کچھ کہنا چاہتے تھے۔

(2) تقریباً 1944ء میں ایک بار جوش ملیح آبادی الٰہ آباد یونیورسٹی میں گئے۔ ادبی تقریب میں ڈائس پر جوش کے علاوہ فراق بھی موجود تھے۔ جوش نے اپنی طویل نظم حرفِ آخر کا ایک اقتباس پڑھا۔ اس میں تخلیقِ کائنات کی ابتداء میں شیطان کی زبانی کچھ شعر ہیں۔ جوش شیطان کے اقوال پر مشتمل کچھ اشعار سنانے والے تھے کہ فراق نے سامعین سے کہا:

سنیے حضرات، شیطان کیا بولتا ہے؟ اور اس کے بعد جوش کو بولنے کا اشارہ کیا۔

(3) فراق گورکھپوری سے کسی نے پوچھا: بحیثیت شاعر آپ اور جوش صاحب میں کیا فرق ہے؟

فراق نے اپنی بڑی بڑی وحشت ناک آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا: جوش موضوع سے متاثر ہوتا ہے اور میں موضوع کو متاثر کرتا ہوں۔

(4) ایک مشاعرے میں ہر شاعر کھڑے ہو کر اپنا کلام سنا رہا تھا۔ فراق صاحب کی باری آئی تو وہ بیٹھے رہے اور مائیک ان کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔ مجمع سے ایک شور بلند ہوا: کھڑے ہو کر پڑھیے—-کھڑے ہو کر پڑھیے۔

جو شور ذرا تھما تو فراق صاحب نے بہت معصومیت کے ساتھ مائیک پر اعلان کیا:

میرے پاجامے کا ڈورا ٹوٹا ہوا ہے۔(ایک قہقہہ پڑا) کیا آپ اب بھی بضد ہیں کہ میں کھڑے ہو کر پڑھوں؟

مشاعرہ قہقہوں میں ڈوب گیا۔

ستمبر 20, 2010 at 08:24 3 comments

ترانہ اردو

سب سے اچھی سب سے میٹھی، سب سے سہانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

اس میں سب پھولوں کی خوشبو، سب پھولوں کی رنگت ہے

سب قدموں کی چاپ ہے اس میں، سب قوموں کی سنگت ہے

پاکستان کی کوکھ سے جنمی، پاکستانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

صوفی سنتوں اور ولیوں نے اس کا باغ لگایا ہے

خسرو جیسے فنکاروں نے اس کا ساز بجایا ہے

بھکتی کال کے دوہوں والی، پریم دوانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

عشق و وفا کے قومی نغمے اردو گاتی آئی ہے

عشق و وفا کے نام پہ اردو دھوم مچاتی آئی ہے

عشق و وفا جتنے ہیں پرانے اتنی پرانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

ملتی ہے اوراقِ غزل میں روز گلابوں کی مانند

بند کھلی آنکھوں میں اردو پیار کے خوابوں کی مانند

ایک حقیقت ایک فسانہ ایک کہانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

اردو اک تحفہ ہے نرالا اردو اک گلدستہ ہے

اردو ہے تہذیب کی منزل اردو سچّا رستہ ہے

سب کے من کو جیت چکی ہے وہ من مانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

آجائے جس وقت زباں پر زور دکھا کر رہتی ہے

نفرت سے ٹکرائے تو دیوار گراکر رہتی ہے

ایک تلاطم، ایک سمندر، ایک روانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

اردو اپنا جینا مرنا، اردو کھانا پیناہے

اردو اپنی روزی روٹی اردو خون پسینہ ہے

اردو اپنا رزق ہے ، اپنا دانہ پانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

دنیا والو! اس کو بھلانا، اس کو مٹانا کھیل نہیں

بن اردو کے دل والوں میں کوئی محبت میل نہیں

اردو سب سے پیاری زباں ہے سب کی زبانی اردو ہے

جگ میں لاکھوں لاکھ زبانیں، اردو رانی اردو ہے

ستمبر 16, 2010 at 15:50 تبصرہ کریں

عید کارڈ

ستمبر 9, 2010 at 12:12 1 comment

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]