موبائل فون اور 12 سال سے کم عمر بچے

اگست 30, 2010 at 05:29 3 comments

آج کے دور میں جبکہ موبائل فون یا سیل فون ہر چھوٹے بڑے کی ضرورت بن چکا ہے. اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں کو دیکھ کر چھوٹے بچوں میں بھی موبائل فون لینے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے. 12سال سے بھی کم عمر کے بچوں کے ہاتھوں میں اسے دیکھا جارہا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ بعض موبائل ہینڈ سیٹ بنانے والی کمپنیاں ایسے سیٹ لانچ کرچکی ہیں جس میں محدود فیچرز کے ساتھ نسبتاّ سستے اور دلکش فنکشن پیش کئے گئے ہیں۔ اسکول جاتے وقت مائیں محض اپنے بچوں کی خیر خبر رکھنے کیلئے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔باہری مشاغل سے فارغ ہونے کے بعد’ڈیڈی‘ اپنا موبائل بچوں کے حوالے کرتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ اسے پیار اور شفقت کا اظہار سمجھا جاتا ہے نیز ایسا نہ کرنے والے کو کنجوس‘ سخت دل اوربچوں سے بے پروا گردانا جاتا ہے۔

بچوں کا باپ تو بچوں کی ماں کو موبائل اس لئے دلواتا ہے کہ خانگی مشاغل میں لگے لگے وہ شوہر کے رابطے میں رہ سکیں جبکہ مائیں محض بچے کو ’بہلانے‘ اور بھلی بننے کے چکر میں فون ان کے حوالے کردیتی ہیں۔ پڑوسن سے کوئی دلچسپ مذاکرہ چھڑ جائے اور بچہ درمیان میں مخل ہورہا ہو تو بھی ایسے مواقع پر موبائل فون جھنجنے کا رول ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جبکہ تازہ تحقیق پر یقین کریں توچھوٹے بچوں کا موبائل فون استعمال کرنا خطر نا ک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی طبی ماہرین نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو موبائل فون دینا خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔ موبائل فون اور صحت سے متعلق ریسرچ پروگرام کے سر براہ پروفیسر لاری چیلیس Professor Lawrie Challis کا کہنا ہے کہ بارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون نہیں دینا چاہئے کیونکہ اس کا استعمال ان کے لئے مضر ہے۔

دراصل موبائل فون سے نکلنے والی شعاعیں ان معصوموں کے لیے خطر ناک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بچے مختلف معاملات میں بڑوں سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ان کا جسمانی اور دفاعی نظام بڑھنے کے عمل میں ہوتا ہے۔چونکہ 12برس سے کم کا زمانہ بچے کی نشوونما کا ہوتا ہے اس لیے موبائل سے نکلنے والی شعاعیں radiations ان کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہو سکتی ہیں۔ ماہر ین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کم عمر نوجوانوں کو بھی موبائل پر کم سے کم گفتگو کر نی چاہئے۔ اپنے متعلقین سے رابطہ کی ان کیلئے آسان صورت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ تحریری پیغامات SMS پر زیادہ انحصار کریں ۔اس سے نہ صرف ان کی صحت محفوظ رہے گی بلکہ جیب پر بھی بوجھ نہیں پڑے گا۔

Advertisements

Entry filed under: Kids Corner : بچوں کی دنیا. Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , .

لیلتہ القدر کی فضیلت آخری عشرے کی فضیلت و عظمت

3 تبصرے Add your own

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • An error has occurred; the feed is probably down. Try again later.

%d bloggers like this: