شیکسپیئر کے فلسفی مسخرے

اگست 21, 2010 at 05:44 تبصرہ کیجیے

شیکسپیئر دنیائے ادب کے اُفق کا وہ چمکتا ستارہ ہے جس کی مقبولیت کا گراف ہمیشہ بلند رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اس کی کردار نگاری ہے۔ چونکہ اس کا زندگی کا مشاہدہ نہایت گہرا تھا۔ اس لئے اس نے کئی لازوال اور آفاقی کردار تخلیق کئے۔ اس کے متنوع کرداروں میں مسخرہ نہایت اہم ہے۔مسخرہ کے کردار کو اپنے ڈراموں میں اس نے خاص مقصد کيلئے پیش کیا ہے اور وہ خاص مقصد ڈراموں کے کرداروں کی خوبیوں ، خامیوں اور بے وقوفیوں پر تنقید و تبصرہ کے علاوہ زندگی کے متعلق اپنے نظريے کی وضاحت بھی ہے۔ طربیہ ہو یا المیہ دونوں میں مسخرے اپنی بزلہ سنجی سے قارئین اور ناظرین کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں ۔ تاہم عام مسخروں کی طرح شیکسپیئر کے مسخرے اپنی حرکات و سکنات سے تماش بینوں کو نہیں ہنساتے بلکہ وہ نہایت ذہانت سے زندگی کی فلسفیانہ توجیح کرتے ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ شیکسپیئر نے ایسے لازوال کردار (Falstoff)  تخلیق کئے ہیں جو اپنی حرکات و سکنات وغیرہ سے بھی ہنساتے ہیں ۔ لیکن یہ شیکسپیئر کا امتیاز ہے کہ اس نے فلسفی مسخرے تخلیق کئے ہیں ۔ جو ڈرامے کے دوسرے کرداروں پر نہ صرف فکر انگیز تنقید و تبصرے کرتے ہیں بلکہ اپنے “اقوال زریں ” سے زندگی کے متنوع پہلو اجاگر کرتے ہیں ۔انہیں لازوال کرداروں میں لیئر کا مسخرہTwelfth Night کا Feste اور As you Like it کا ٹچ اسٹون اہم ہیں ۔شاہ لئیر کے مسخرے کو انگریزی ادب کے کئی نقادوں نے بہت سراہا اور پسند کیا۔ وہ بذلہ سنجی اور ذہانت میں اپنی مثال آپ ہے۔ ڈرامے میں وہ ایک ایسے پڑھے لکھے اور ذہین فلسفی کی طرح نظر آتا ہے جسے کئی محاورے، ضرب الامثال اور دیسی حکایتیں ازبر ہیں اور شاہ لیئر کی بےوقوفیوں کو ظاہر کرنے کیلئے وہ انہیں بےدریغ استعمال کرتا ہے۔ اور زندگی کی روزمرہ استعمال کی چیزوں کوبھی تمثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لیئر جب اپنی چھوٹی بیٹی کو اس کی راست بازی کی سزا اور اپنی بڑی بیٹیوں کو ان کی چاپلوسی کا انعام آدھی آدھی سلطنت کی صورت میں دینے کے بعد دامن جھاڑے بیٹھا ہوتا ہے تو مسخرہ اس سے کہتا ہے کہ اب آپ ایسے صفر کی مانند ہو گئے ہیں جس سے پہلے کوئی ہندسہ نہیں ہوتا یا ایسی خالی پھلی کی مانند ہیں جس کے دانے دوسروں کومل چکے ہیں ۔ وہ بادشاہ لئیر کو بے وقوف کہتا ہے تو وہ چراغ پا ہوکر کہتا ہے تم نے مجھے یہ کیوں کہا؟ اس پر مسخرہ جواب دیتا ہے کہ جتنے اچھے اچھے خطاب آپ کو پیدائش کے وقت حاصل تھے وہ تو آپ نے دوسروں کو دے دئيے ہیں ۔ لیئر نے اپنی چاپلوس اور دھوکے باز بیٹیوں کو سلطنت دے کر جو غلطی کی ہے اور اس سے جونتائج آئندہ برآمد ہونے والے ہیں ۔ یہ مسخرہ ان سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ جوں جوں اس کی بیٹیوں کی اصلیت کھلتی جاتی ہے۔ مسخرہ اس پر اپنا تبصرہ جاری رکھتا ہے۔

لئیر کی بڑی بیٹی بادشاہ کے نوکر کنت کو سنگین سزا دیتی ہے تو وہ گانا گاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے۔ کہ اگر باپ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ہو گا تو اولاد اس کی طرف سے اندھی ہو جائے گی۔ یعنی بيگانگی کا مظاہرہ کرے گی۔لیکن جب باپ دولت سے بھرے تھیلے لائے گا تو پھر بچے بڑے مہربان ہوتے ہیں۔ اور تقدیر ایسی پیشہ ور طوائف کی مانند ہے جو اپنے خزانوں کی چابی غریب کی طرف نہیں گھماتی۔گونرل جب بادشاہ پر سلطنت کے معاملات میں ملازموں کے ذریعے خلل ڈالنے کا الزام لگا کر سنگین نتائج کی دھمکی دیتی ہے تو مسخرہ پھر گاتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک چڑیا نے کوئل کے انڈوں پر بیٹھ کر بچے نکالے اور انہیں کافی عرصہ تک پالتی رہی جب بچے بڑے ہوئے تو ان میں سے ایک نے چڑیا کا سر کتر لیا۔ مسخرہ شاہ کو دراصل یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ اس نے بیٹیاں نہیں آستیں کے سانپ پالے ہیں ۔

اس کے علاوہ یہ فلسفی بادشاہ کو کئی اقوال زریں بھی سناتا ہے۔ ان میں بعض تو ایسے ہیں کہ اگر بادشاہ  فیصلہ کرنے سے پہلے سن سمجھ لیتا تواس کا انجام ایسا المناک نہ ہوتا۔ اقوال درج ذیل ہیں ۔

Have more than thou showest

Learn More than thou trowest

Set less than thou throwest

لیکن لیئر کا انجام المناک ہونا ہی تھا کیونکہ الميے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ گو کہ ارسطو نے اس بات پر زور نہیں دیا کہ الميي tragedy کا انجام ہیرو کی دردناک موت پر ہی ہو۔ تاہم شیکسپیئر کب ارسطو کے قوانین و اصولوں کو خاطر میں لاتا تھا۔ لئیر کے ساتھ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن اس بے چارے فلسفی مسخرے کا انجام بھی ہیرو کے ساتھ کر کے شیکسپیئر نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ دوسرا اہم فلسفی مسخرہ As you like it کا ٹچ اسٹون ہے۔ وہ بھی مخصوص منطق کے ساتھ دوسرے کرداروں پر تنقید و تبصرہ کرتا ہے اور حقیقتاً دوسروں کی بے وقوفیوں و خامیوں کو پرکھنے کی کسوٹی ثابت ہوتا ہے۔ محبت کے معاملات ہوں یا زندگی کے دوسرے پہلو ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہوا ہے۔ اسے اپنی درباری زندگی پر فخر ہے اسے وہ اچھے طور طریقوں والی زندگی سمجھتا ہے۔ روز لینڈ سے باتیں کرتے ہوئے محبت کے تجربات یوں بیان کرتا ہے۔

we that our true lovers run into strange capers but as all is mortal in nature so is all nature so is all nature in love mortal in folly.

وہ اپنی مخصوص منطق سے کچھ بھی ثابت کر سکتا ہے۔ Corin سے وہ پوچھتا ہے کیا تم کبھی دربار میں رہے ہو۔ تو وہ کہتا ہے نہیں ۔ اس پر ٹچ اسٹون کہتا ہے پھر تم دوزخ کے مستحق ہو۔ وہ پوچھتا ہے کیوں ؟چونکہ تم دربار نہیں گئے تم شریفانہ طور طریقوں سے آگاہ نہیں اس کا مطلب ہے کہ تم ضرور بدمعاش ہو اور چونکہ بدمعاشی گناہ ہے۔ اس لئے تم واصل جہنم ہو گے۔ اسی طرح ایک جگہ Celia اور Rosalind باتیں کر رہی ہیں تو اس کو یہ آن دھمکتا اور انہیں کہتا ہے تمہارے والد گرامی بلا رہے ہیں ۔ Celia پوچھتی ہے کیا تم پیغام رساں ہو۔ یہ کہتا ہے میں اپنے عزت و وقار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کو بلا لاؤں ۔ روز لینڈ پوچھتی ہے تم نے یہ حلف کہاں سے سیکھا۔ جواباً کہتا ہے کہ میں نے یہ ایک Knight سے سیکھا ہے۔ جو اپنی عزت کی قسم کھا کر کہہ رہا تھا۔ پان کیک اچھے ہوتے ہیں اور رائی اچھی نہیں ہوتی۔

اب میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہاں کیک کچھ بھی نہیں اور رائی بہت مزے دار ہے۔ اوراب میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ نائٹ نے جھوٹی قسم کھائی ہے۔ Celia پوچھتی ہے تم اپنے علم کے وسیع ذخیرے سے کیسے ثابت کر سکتے ہو۔ ٹچ اسٹون کہتا ہے آپ دونوں کھڑی ہوکر اپنی ڈاڑھیوں کی قسم کھا کر کہیں کہ میں برا آدمی ہوں ۔ اگر ہماری ڈاڑھیاں ہوتی تو ہم قسم کھاتے ہیں کہ تم برے آدمی ہو۔ جو چیز موجود نہ ہو تو اس کی قسم کھانے سے کیا قسم جھوٹی نہیں ہو گی۔ پس یہی معاملہ نائٹ کا ہے۔ کیونکہ اس کی کوئی عزت و وقار نہ تھا۔ لہٰذا اس نے جھوٹی قسم کھائی۔غرضیکہ اس کی اس منطق اور رایوں کی بدولت نواب Duke کواقرار کرنا پڑا۔

He was his fully like a stalkung horse and under the presentation of that he shoots his wit(A ct V sceme iv)

کنگ لئیر اور As you like it کے مسخرے کی یہ نسبت Twelftl Night کا Feste زیادہ فلسفیانہ فکر نہیں رکھتا۔ لیکن دوسرے کرداروں کے ساتھ مسخرہ پن اور طنز ومزاح سے ان کی ناہمواریوں کو بڑی ذہانت سے اجاگر کرتا ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ Better a witty fool than a foolish wit.اولیویا اسے کہتی ہے کہ تم نرے خشک مسخرے اور بے ایمان ہو۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں خشک ہوں تو شراب دے دیں اور اگر میں بےایمان ہوں تو ایماندار بننے کا موقع دیں اگر نہ بن سکا یہ کام درزی سے کروا لیں ۔ وہ میری مرمت کر دے گا۔ پھر مزید کہتا ہے۔

any thing that is mended is but patched Virtue that trangress (offends) is but patched with sin and sin that amends is but ratched with virtue.

touchstone  کی طرح وہ بھی بہترین گویا ہے۔ ایک گانے میں اس نے ارضی محبت اور موجودہ لمحہ سے لطف اندوزی اٹھانے کا تصور واضح کیا ہے کہ جوانی نہیں رہے گی۔ دیر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وغیرہ وغیرہ، گانے سنئيے اور سر دُھنيے۔

What is a love it is not hereaftor Present mirth hoth present laughter what%27s to come is still unsure in delay there lies no plenty there come kiss me sweet and twenty Youth,s a stuff will not endure

بات سے بات نکلنے اور دوسروں کی بات سے اپنا مطلب کا نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت سے نہ صرف یہ مسخرہ بھرپور طور پر مسلح ہے بلکہ الفاظ کے استعمال کی اہمیت کو بھی جانتا ہے۔چنانچہ اولیو یا جب اس کا بجانے والا ڈرم دیکھ کر کہتی ہے کہ کیا تم اس کے ساتھ گزر بسر کر رہے ہو تو وہ کہتا ہے۔ نہیں میں چرچ کے ساتھ رہتا ہوں ۔ تو وہ پوچھتی ہے کیا تم پادری ہو۔ وہ جواب دیتا ہے نہیں ایسی کوئی بات نہیں اصل میں میرا گھر چرچ کے ساتھ جڑا ہے۔ لہٰذا میں چرچ میں رہتا ہوں ۔ سب اس کے بعد کہتا ہے ایک بزلہ سنج آدمی کيلئے جملہ چمڑے کے دستانے کی طرح ہے جسے وہ اپنے مطلب کے مطابق الٹا سکتا ہے۔ اورجب Voila اس سے کہتی ہے کہ کیا تم اولیویا کے مسخرے نہیں ہو تو جواباً کہتا ہے کہ لیڈی اولیویا کا کوئی مسخرہ نہیں ہے۔ جب تک وہ شادی نہ کرے مسخرے بھی شوہروں کی طرح ہوتے ہیں بلکہ ان دونوں میں شوہر بڑا مسخرہ ہے۔مختصر یہ کہ اس نے اپنی بذلہ سنجی اور لفظی مزاح سے پورے ڈرامے میں جان ڈال دی ہے۔

اب آتے ہیں شیکسپیئر کے ایک اور کردارPolonioy کی طرف شیکسپیئر نے اس کيلئے Fool کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ لیکن اپنی عادات و کردار ، مخصوص دانشورانہ سوچ اور ڈرامے کے دوسرے کرداروں کا خاص تجزیہ کرنے کی وجہ سے مسخروں کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔

ہر مزاحیہ کردار کی طرح وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتا ہے۔ دوسروں کے معاملات میں مداخلت اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ گو کہ وہ سمجھتا ہے کہ۔ Brevity is the soul of wit لیکن ہر بات تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شکل و نادر الفاظ کو استعمال کر کے وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی باتوں میں وزن اور اثر پیدا ہو جائے گا۔وہ ہیلمٹ کے پاگل پن کا تجزیہ اپنی منطق کے مطابق کرتا ہے۔ البتہ ہلمٹ کی محبت،وعدوں اور قسموں کے متعلق بیٹی کو بڑے پتے کی بات بتاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہ قسمیں اور وعدے چڑیاں پکڑنے کے پھندے ہوتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ جب انسان کا خون گرم ہوتا ہے تو وہ بلند بانگ وعدوں میں بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Ay springes to catch woodcock 9 do know when the blood burns how prodigal the soal land the tongue vows.

شیکسپیئر نے مزاحیہ نگاری میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ مزاح کے تقریباً تمام حربے اس نے استعمال کئے ہیں ۔ مزاح نگار اکثر انہیں حربوں سے کام لیتے ہیں ۔ لیکن جہاں تک مزاحیہ کردار نگاری کا سوال ہے۔ عام روایتی مزاحیہ کرداروں کے ساتھ ساتھ اس نے جو فلسفی مسخرے متعارف کروائے ہیں اسی کا امتیاز ہے اور اس مضمون کا حصہ بھی صرف انہی فلسفی مسخروں کا تعارف پیش کرنا تھا.

Entry filed under: Aalmi Adab : عالمی ادب. Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , .

حضرت سلطان باہو کا صوفیانہ کلام خلیل جبران کے اقوال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: