خلیل جبران کی زندگی کے بارے میں

اگست 18, 2010 at 05:36 1 comment

عربی زبان کے مشہور صاحب طرز ادیب ، جبران خلیل جبران 1883 ء میں پیدا ہوئے، مقام پیدائش بشریٰ ہے۔ جو لبنان کے مضافات میں الارزالخالد کے قریب واقع ہے۔ ابتدائی زندگی شمالی لبنان کی آزاد فضامیں گزری ۔ بارہ برس کی عمر میں ترک وطن کر کے ممالک متحدہ امریکہ چلے گئے۔ چند سال وہاں ٹھہر کر عربی زبان وادب کی تحصیل کیلئے بیروت آئے اورمدرسہ حکمت میں داخل ہو گئے.1903ء میں امریکہ واپس ہوئے اور پانچ برس تک وہاں رہے، اس عرصہ میں آپ کا زیادہ ترقیا م بو سٹن میں رہا ۔ جہاں آپ نے کچھ کتابیں عربی زبان میں تالیف کیں۔ 1908ء میں مصوری اور دیگر فنون لطیفہ کی تکمیل ، نیز یورپ کے بڑے بڑے شہروں کی سیاحت کے لئے پیرس کا سفر کیا ۔ تین سال پیرس میں رہ کر جامعہ فنون فرانسیسی سے امتیازی سندحاصل کی اورمجلس فنون فرانسیسی کا رُکن مقرر کیا گیا۔

1912ء میں پھر امریکہ گیا اور نیویارک میں مستقل اقامت اختیار کرلی۔  یہاں آپ نے عربی اور انگریزی میں بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جن کی وجہ سے آپ ساری دنیا کے اہل فن کی نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ ان کتابوں کے علاوہ کچھ غیر فانی مقالات ہیں، جو مختلف اوقات میں شائع ہو کر یورپ کی اکثرزبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ خلیل جبران کی ایک کتاب ”الرسوم العشرون“ کے نام سے ہے جو اس کے سحر آفریں موقلم کی اشاراتی تصویروں کا نادرِ روز گار مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 1919ء میں شائع ہوئی تھی۔ جبران کی انگریزی تالیفات دنیا کی اکثر زندہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔

مسرت کا مقام ہے کہ اردو بھی جبران خلیل جبران کے افکار سے ناآشنا نہیں ۔ سب سے پہلے قاضی عبدالغفار ، مصنف ”لیلیٰ کے خطوط“ نے آپ کے انگریزی شاہکار ”النبی“کا ترجمہ” اُس نے کہا“کے نام سے کیا۔ پھر اسی کتاب کا دوسرا ترجمہ ”مسائل ِحیات“ لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے بعد ابوالعلاچشتی نے ” الارواح المتمردہ“ کو” سرکش روحیں “کے نام سے براہِ راست عربی سے اردو میں منتقل کیا۔ سب سے آخر میں بشیر ہندی نے ”پاگل “ملک کے سامنے پیش کی ،جو” المجنون“کے غالباً انگریزی ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔

ترس کھا ایسی ملت پر

ترس کھا ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی

ترس کھا ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے

ترس کھا ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھےترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے

ترس کھا ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں

ترس کھا ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے

( گلشنِ پیمبر۔ خلیل جبران۔انیس سو تینتیس )

Entry filed under: Aalmi Adab : عالمی ادب. Tags: , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , .

حضرت سلطان باہو (1631-1691) ادیبوں کے لطیفے

1 تبصرہ Add your own

  • 1. ak  |  اگست 24, 2010 کو 15:44

    well said. aisi millat par taras hi khana chayeh, but i wish pakistan aur pakistani kabhi kablay taras halat main na ayen. ameen.

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: