انگریزی پر عربی زبان کا اثر

اگست 6, 2010 at 05:32 تبصرہ کیجیے

انگریزی زبان میں عربی زبان کے بہت سے الفاظ پائے جاتے ہیں اور ان الفاظ سے نکلے ہوئے الفاظ علاحدہ ہیں۔ ان میں کچھ لفظ ایسے ہیں جو انگریزی زبان بولنے والے روزانہ استعمال کرتے ہیں۔مثلاً زیرو، الکحل، صوفہ وغیرہ۔ عربی زبان کے جو الفاظ انگریزی زبان میں مستعمل ہیں ان میں سے زیادہ تر براہِ راست انگریزی زبان میں داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ دیگر زبانوں جیسے لاطینی، فرانسیسی اور ہسپانوی کے ذریعے داخل ہوئے ہیں۔ جو علمائے کرام بارھویں صدی عیسوی میں علم کیمیا، علم طب، علم نجوم اور علم الحساب کے متلاشی تھے انھوں نے عربی کتب کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ قدیم اسپین میں عربوں کی بنائی ہوئی قرطبہ کی یونیورسٹی جس کی بنیاد نویں صدی میں پڑ چکی تھی، تمام یورپی ممالک کے طلبہ کی دلچسپی کا مرکز بنی۔ یہی صورت حال عرب اسپین کی دوسری یونیورسٹیوں میں پائی جاتی تھی۔
عرب فاتحین چھٹی صدی عیسوی سے لے کر پندرھویں صدی تک تقریباً آدھی دنیا پر حکومت کرنے لگے تھے اور ہر میدان میں چاہے وہ علمی ہو یا صنعتی، تجارتی ہو یا زراعتی، معاشی ہو یا سماجی ترقی کے ہر زینے پر پہنچ چکے تھے ۔ یہی سبب ہے کہ دیگر اقوام کی تہذیب و تمدن اور زبان و فلسفہ پر عربی زبان اور عربی تہذیب یعنی مسلم تہذیب کے اثرات نظر آتے ہیں۔ عربی زبان کے بعض الفاظ علم نباتات، علم نجوم، علم کیمیا، علم طبیعیات، علم الحساب، علم طب و جراحی، علم جغرافیہ، سیاحت، موسیقی، علم پارچہ بافی اوررنگ سازی کی اصطلاحات گھلے ملے ہیں۔ انگریزی میں ان کی شکلیں اصل سے بہت مختلف ہوگئی ہیں۔
ان الفاظ کی اصل جاننے کے لیے ان کی مختلف اشکال اور تلفظ پر نظر کرنا ضروری ہے ۔ عموماً عربی زبان کے وہ الفاظ جو سولھویں صدی سے پیشتر انگریزی میں داخل ہوئے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ انگریزی تلفظ کی بنا پر خالص انگریزی کے الفاظ معلوم ہوتے ہیں جیسے جبرالٹر (Gibralter) یعنی جبل الطارق، اوسینا (Avicinna) یعنی ابوعلی سینا وغیرہ۔ موجود علم کیمیا میں کئی لفظ عربی سے ماخود ہیں جیسے لفظ الکمی (Alchemy) یعنی کیمیا گری۔ یونانی زبان میں کیمیا (Chyma) کے معنی ہیں پگھلی ہوئی دھات، عربی میں یہ Alchemy بنا اور انگریزی میں عربی زبان سے داخل ہوا۔ اسی طرح لفظ الگزیر (Elixir) ال اکسیر کی بگڑی ہوئی شکل ہے ۔ اس کا اصل یونانی لفظ زیران (Xerion) ہے جس کی کچھ خصوصیات تھیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر یہ عربی میں ”ال اکسیر“ ہو گیا اور اس کے بعد لاطینی زبان سے ہوتا ہوا چاسر کے انگریزی کلام میں داخل ہوا۔
الکحل (Alcohal) عربی لفظ ہے لیکن یہ مرکب شے عربوں کی پیدا کردہ نہیں ہے ۔ اس کا پہلے پہل تذکرہ نویں یا دسویں صدی کی اطالوی زبان میں ملتا ہے ۔ مسلمان الکحل کو ایک سفوف کی حیثیت سے جانتے تھے جو ابرں کو رنگنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ الکلی (Alkali) عربی لفظ القلی، پوٹاشیم کی کیمیائی علامت “K” کا ماخذ ہے ۔ ”انٹی منی“ کا اصل عربی لفظ ”التمد“ ہے جو ایک دھات ہے ۔ علم کیمیا کو باقاعدہ سائنس کی شکل دینے والے مسلمان ہیں کیونکہ اس میدان میں جہاں یونانی صرف صنعتی تجربات اور دھندلے نظریات رکھتے تھے وہاں عرب کے باشندے باقاعدہ مشاہدات اور مکمل تجربات کیا کرتے تھے ۔ انھوں نے المبک (Alembic) یعنی قرنبیق ایجاد کیا اور اس کا نام رکھا ”المبک۔“ یہ ایک ایسا برتن ہے جس کی مدد سے تجربہ گاہ میں بھپکا دیا جاتا ہے ۔ آج بھی دنیا کی ایک مشہور دوا ساز کمپنی ”المبک“ کے نام سے موسوم ہے ۔
علم الحساب کے میدان میں عربی زبان کا اثر صاف نظر آتا ہے ۔ زیرو (Zero) جس کی طاقت علم حساب میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے ، عربی کے زیر اثر وجود میں آیا۔ 976 میں محمد بن احمد اپنی کتاب ”سائنس کی کنجیاں“ میں لکھتے ہیں کہ اگر گنتی میں کوئی عدد عشری جگہ پر نہ ہو تو ایک چھوٹا سا دائرہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ اعداد کی قطار قائم رہے ۔ مسلمانوں نے اس دائرے کو ”صفر“ یعنی خالی کہا۔ لاطینی علما نے صفر کو زیفرم (Zepherum) میں تبدیل کر دیا اور بعد میں اطالویوں نے اس کی تخفیف کرکے اسے زیرو بنا دیا، یہی زیرو آج انگریزی میں مستعمل ہے ۔ الگورزم (Algorism) یعنی عربی ”اعشاریہ“ عہد مامون کے مشہور ریاضی داں محمد بن موسیٰ النحوارزمی کی نسبت سے یہ لفظ بنا ہے ۔ 813 میں النحوارزمی نے اپنے نجومی خاکوں میں ہندوستانی اعداد استعمال کیے ۔ اس کے بعد الگورزم کے معنی ہو گئے ہر وہ حسابی طریقہ جو عشری علامت پر منحصر ہوتا ہے اور یہی نظریہ آج بھی مروج ہے ۔
علم فلکیات اور علم نجوم میں بھی عربی زبان کے الفاظ انگریزی زبان میں درآئے ہیں مثلاً ازیمت (Azimuth) زنت (Zenith) المیانک (Almanac) وغیرہ۔ ”ازیمت“ اس قوس آسمانی کو کہتے ہیں جو سمت الّر اس سے افق تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ عربی لفظ سمت سے بنا ہے ۔ ”زنت“ کے معنی سمت الراس کے ہیں یعنی آسمان میں وہ نقطہ جو دیکھنے والے کے ٹھیک سرپر ہو۔ آج کل یہ لفظ عام زبان میں نقطہ عروج کی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے – آلات موسیقی اور ان کے نام جیسے لوٹ (Lute) تمبورین (Tamburine) ریبک (Rebeck) گٹار (Guitar) وغیرہ عربی زبان کے رہین منت ہیں۔ ”لوٹ“ عربی لفظ ال۔اد (Al=Ud) سے بنا ہے ۔ عربی ریبک (Rebeck) یا ربائبل (Rebible) آلہ موسیقی ہسپانوی زبان میں ریبل (Rebel) اور پرتگالی میں ریبیکا (Rebeca) کہلانے لگا اور آج بھی یہ لفظ پر تگالی میں وائلن (Violin) کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
فن تعمیر میں بھی عربی زبان کے بعض الفاظ مثلاً ”مینار“ جس کے معنی روشنی کے گھر کے ہیں۔ مینارٹ (Minaret) لفظ مدھانہ (Madhana) سے بنا ہے یعنی وہ جگہ جہاں سے موذن کھڑے ہوکر اذان دیتا ہے ۔ اڈمرل (Admiral) اور جبرالٹر بھی (Gibralter) عربی الفاظ سے بنے ہیں۔ ”اڈمرل“ یعنی بحری بیڑے کا افسر اعلیٰ عربی زبان کے دو الفاظ امیر (سردار) اور البحر (سمندر) سے مل کر بنا ہے ۔ اڈمرل اسی ”امیر البحر“ کی بگڑی ہوئی شکل ہے ۔ کپڑوں کی کئی قسمیں ان عرب ممالک کے نام سے موسوم ہیں جہاں وہ تیار کیے جاتے تھے ۔ چانسر (Chancer) کے زمانے میں فسٹین (Fustian) کے نام سے جو کپڑا مشہور تھا وہ فستات (Fustat)کا بنا ہوا تھا جو مصر کے مسلمان حکمرانوں کا اولین پایہ تخت تھا۔ دمسک (Damask) نامی کپڑا پہلے پہل دمشق میں جو کہ دنیائے تجارت کا بڑا مرکز تھا بنایا گیا۔ مسلن (Muslin) (ململ) اسے اطالوی تاجر موصل سے درآمد کیا کرتے تھے ۔ بغداد اطالوی زبان میں بل ڈاکو (Baldaco) کہلاتا ہے ۔اس طرح وہ ریشمی کپڑا جو بغداد میں بنایا جاتا تھا اور جو آج کل گرجا گھروں میں زینت کے لیے لٹکایا جاتا ہے بل ڈاچنو (Baldachino) کے نام سے مشہور ہوا۔
ایران کا تفٹھا (Taftah) ٹفیٹا (Taffeta) کے نام سے مشہور ہے ۔ بغداد کا اٹابیا (Atabiya) یا ”اتاب“ محلہ جہاں ایک صحابی کے خاندان والے رہتے تھے بارھویں صدی عیسوی میں ایک خاص قسم کے کپڑے کے لیے مشہور تھا جو اسپین میں پہنچ کر ”اٹابی سلک“ کے نام سے مشہور ہوا۔ فرانس اور اٹلی میں یہ ٹابس (Tabis) کے نام سے رائج ہوا اور آج بھی اسی نام سے پورے یوروپ میں معروف ہے ۔ للاک (Lilac)ایک قسم کا رنگ ہے جو ایران میں بھی اسی نام سے مشہور تھا۔ یہی رنگ آج کل سلک کے کپڑوں کی رنگائی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔اِملی کو انگریزی میں ٹامرنڈ (Tamrind)کہتے ہیں۔ ہندوستان میں عربوں نے جب پہلے پہل اِملی کے درختوں کی کثرت دیکھی تو انھوں نے اس کو ”ثمرالہند“ یعنی ہندوستان کا پھل کہا۔ لفظ ثمرکا حرف ”ث“ انگریزی میں ”ت“ یا ”ٹ“ بن گیا اور ”الہند“ کا مخفف ”انڈ“ ہو گیا۔ اس طرح ثمرالہند بگڑتے بگڑتے انگریزی زبان میں ”ٹامرنڈ“ بن گیا۔ اورینج (Orange) بھی عربی سے ماخوذ ہے ۔ اور ”نارنج“ سے بنا ہے ۔ اصل لفظ ”نارنج“ تھا جو ”نارینج“ میں بدلا اور بعد میں ”اورینج“ میں تبدیل ہو گیا اور یہی انگریزی میں مستعمل ہے ۔
سیرپ (Syrup) عربی لفظ ”شراب“ سے بنا ہے ۔ اسی طرح لیمن (Lemon) سوگر (Sugar) بازار، کارواں، میاٹرس (Matress)، صوفہ، چیک (Cheque)، ٹیرف (Tariff)، میگزین (Magazine)، رسک (Risk)، المامیٹر (Almameter) اور کئی دوسرے الفاظ عربی زبان کے زیر اثر وجود میں آئے ہیں اور انگریزی، ہسپانوی، اطالوی اور دوسری یورپی زبانوں میں مستعمل ہیں۔ بہت سے مسلمان عرب علما کے نام بھی انگریزی زبان میں اس طرح گڈمڈ ہو گئے ہیں کہ وہ خالص انگریزی نام معلوم ہوتے ہیں جیسے ابن رشد (مشہور فلسفی) انگریزی میں اوِروس (Averoes) کے نام سے مشہور ہیں۔ ابن سینا مشہور فلسفی و سائنس داں اوِسنّا (Avicinna) اور عظیم طبیب ابن زہر (Avenzoa) کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔

Entry filed under: Aalmi Adab : عالمی ادب. Tags: , , , , , , , .

بابافرید گنج شکر (1173-1265) یوم آزادی اور ماضی کی مشکلات

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: