اے وطن پیارے وطن!

اگست 4, 2010 at 05:34 1 comment

یوں تو دنیا کی ہر قوم ہی اپنا یوم آزادی بڑی دھوم دھام سے مناتی ہے. مختلف قسم کے پروگرامز، تقریبات اور دھوم دھڑکے. ہر کوئی اپنی آزادی کا دن جوش و جذبے سے مناتا ہے، خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں اور خصوصی ترانے اور ملی نغمے بنائے جاتے ہیں. پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ملی نغمے بنائے جاتے ہیں- ہمارے ملی نغمے یقینآ سب سے زیادہ بہترین ہوتے ہیں.
ملی نغموں کا بھی اپنا ایک مزہ ہوتا ہے. مگر آج زمانہ اور رہن سہن کے انداز بدل چکے ہیں. پہلے ہم ملی نغمے گنگناتے تھے اور بیسیوں ملی نغمے ہمیں ازبر تھے اور ہم صبح شام ان ملی نغموں کو جپتے اور لہک لہک کر، جھوم جھوم کر گاتے اور ہمارے اکثر برگزیدہ اساتذہ فرط مسرت سے اپنی خوشی چھپائے نہ چھپا سکتے، چاہتے کہ ہمیں بانہوں میں اٹھا کر جھومیں مگر صرف شفقت سے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرتے رہ جاتے، ہم اکثر سوچتے کہ یہ کیسا لطف ہے؟ بالاکوٹ کی وادی میں بہتے جھرنوں سے مجھے یہی ملی نغمے سنائی دیتے۔
پھر ایسا ہوا کہ دن بدل گئے، ہمیں بھارتی گانے اچھے لگنے لگے، لہکتے اور نئی دھنوں کو سراہنے لگے، علی الصبح اُٹھ کر 23 مارچ کی پریڈ اور 14اگست کی پرچم کشائی کی تقاریب دیکھنا ہمیں اچھی خاصی چھٹی کو ضائع کرنے جیسا لگنے لگا، ہمیں لگنے لگا کہ ہم انتہائی شرمندہ، پسماندہ اور انتہائی تیسرے درجہ کی قوم ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم محب وطن نہ رہے تھے، بلکہ یہ تو ایک ایسی کیفیت تھی کہ ہمیں لگتا تھا کہ ہم ایسی قوم کا حصہ ہیں جس کا کوئی مستقبل ہے نہ ماضی!۔
ہم سوچتے ہٹاؤ یار، یہ کیا ہے، کبھی ایک ہٹتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے، کبھی قرض اتار کر ملک سنوارتے ہیں تو کبھی میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے کے نعرے لگاتے ہیں، کبھی کسی کو مولوی ڈیزل کہہ دیتے ہیں، تو کبھی کوئی %10 نامی پتلا جنم لیتا ہے اور کبھی احتساب کے نام پر ایک دوسرے کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں۔ ایسی ہی کسی کیفیت میں فوجی بھائیوں کی فرمائش پر جنرل اپنی چھڑی گھماتے ہوئے آتا ہے اور پھر ساروں کو کہتا ہے کہ ہٹو بچو، یہ تمھارے بس کی بات ہی نہیں ہے!۔
عدلیہ  کا تماشہ اپنی آنکھوں سے ہم نے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ کی صورت میں دیکھا تھا اور پھر اگلے کئی سالوں تک اس کو اور کبھی اس کے ہاتھوں لوگوں کو لتاڑتے ہوئے دیکھا، مجھے سمجھ نہ آئی، صرف ایک کیفیت نے جنم لیا کہ جی یہ ستون بھی کھوکھلا ہے!۔
صحافت نامی بلی صحیح معنوں میں کئی سال پہلے تھیلے سے باہر آئی اور چھا گئی، لوگ ٹی وی چینلوں پر آ کر بڑھکیں مارتے، دھمکیاں دیتے، گالیاں سناتے اور اپنی اپنی کمین گاہوں میں جا گھستے، صحافت اور ٹی وی نے مضبوط ہو کر کچھ کیا تو وہ یہ تھا کہ میری اور میرے جیسے کئی دوسروں کی نیندیں حرام کر دیں۔ ہمیں ایک دم سے پتہ چل جاتا، اور بچہ بچہ بھی ملکی حالات پر تبصرے کرنے لگا، ایسے ہی ایک سیاستدان نے ٹی وی پر آ کر کہا کہ “جی، ٹی وی تبصروں کا اثر ہے کہ اس کا بیٹا، اگر کوئی گلاس الٹا پڑا دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ، یہ گلاس غیر آئینی پڑا ہوا ہے!”۔
حاصل یہ ہوا کہ ہم جیسے رینگتے لوگ مایوس ہوگئے، ہمیں لگا کہ ریاست کے سارے ستون بودے ہیں، ملی نغمے تو دور، فلمی نغمے بھی ہمیں برے لگنے لگے، آٹا چاول کی دوڑ سب سے بڑھ گئی اور ہم کھو گئے، لوگوں کو لگنے لگا کہ ہم مایوس اور مری ہوئی قوم ہیں، ہمیں کوئی حادثہ جیسے زلزلہ ہی اکٹھا رکھ سکتا ہے، کوئی امن کی کیفیت نہیں!۔
لیکن ایسی کوئی بات نہیں میری قوم جدوجہد کر رہی ہے، گو سست رفتاری سے بہتری آ رہی ہے، لیکن میری قوم جاگ رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھی ان دھوکوں میں سے ایک ہو، جن کو ہم نے ساٹھ سال دیکھا ہے، مگر یہ بڑا حسین دھوکہ ہے.

Entry filed under: Mazameen : مضامین, National Songs : ملی نغمے. Tags: , , , , , , , , , , , .

ملی نغمہ : ماؤں کی دعا بابافرید گنج شکر (1173-1265)

1 تبصرہ Add your own

  • 1. Alishba  |  اگست 5, 2010 کو 01:56

    Very nice, really our national songs are too good but our today’s generation preferred Indian songs. You write very well and i also like your selected national song. Allah bless you. Ameen 

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: