Archive for اگست, 2010

آخری عشرے کی فضیلت و عظمت

اگست 31, 2010 at 05:10 تبصرہ کریں

موبائل فون اور 12 سال سے کم عمر بچے

آج کے دور میں جبکہ موبائل فون یا سیل فون ہر چھوٹے بڑے کی ضرورت بن چکا ہے. اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں کو دیکھ کر چھوٹے بچوں میں بھی موبائل فون لینے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے. 12سال سے بھی کم عمر کے بچوں کے ہاتھوں میں اسے دیکھا جارہا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ بعض موبائل ہینڈ سیٹ بنانے والی کمپنیاں ایسے سیٹ لانچ کرچکی ہیں جس میں محدود فیچرز کے ساتھ نسبتاّ سستے اور دلکش فنکشن پیش کئے گئے ہیں۔ اسکول جاتے وقت مائیں محض اپنے بچوں کی خیر خبر رکھنے کیلئے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔باہری مشاغل سے فارغ ہونے کے بعد’ڈیڈی‘ اپنا موبائل بچوں کے حوالے کرتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ اسے پیار اور شفقت کا اظہار سمجھا جاتا ہے نیز ایسا نہ کرنے والے کو کنجوس‘ سخت دل اوربچوں سے بے پروا گردانا جاتا ہے۔

بچوں کا باپ تو بچوں کی ماں کو موبائل اس لئے دلواتا ہے کہ خانگی مشاغل میں لگے لگے وہ شوہر کے رابطے میں رہ سکیں جبکہ مائیں محض بچے کو ’بہلانے‘ اور بھلی بننے کے چکر میں فون ان کے حوالے کردیتی ہیں۔ پڑوسن سے کوئی دلچسپ مذاکرہ چھڑ جائے اور بچہ درمیان میں مخل ہورہا ہو تو بھی ایسے مواقع پر موبائل فون جھنجنے کا رول ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جبکہ تازہ تحقیق پر یقین کریں توچھوٹے بچوں کا موبائل فون استعمال کرنا خطر نا ک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی طبی ماہرین نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو موبائل فون دینا خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔ موبائل فون اور صحت سے متعلق ریسرچ پروگرام کے سر براہ پروفیسر لاری چیلیس Professor Lawrie Challis کا کہنا ہے کہ بارہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون نہیں دینا چاہئے کیونکہ اس کا استعمال ان کے لئے مضر ہے۔

دراصل موبائل فون سے نکلنے والی شعاعیں ان معصوموں کے لیے خطر ناک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بچے مختلف معاملات میں بڑوں سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ان کا جسمانی اور دفاعی نظام بڑھنے کے عمل میں ہوتا ہے۔چونکہ 12برس سے کم کا زمانہ بچے کی نشوونما کا ہوتا ہے اس لیے موبائل سے نکلنے والی شعاعیں radiations ان کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہو سکتی ہیں۔ ماہر ین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کم عمر نوجوانوں کو بھی موبائل پر کم سے کم گفتگو کر نی چاہئے۔ اپنے متعلقین سے رابطہ کی ان کیلئے آسان صورت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ تحریری پیغامات SMS پر زیادہ انحصار کریں ۔اس سے نہ صرف ان کی صحت محفوظ رہے گی بلکہ جیب پر بھی بوجھ نہیں پڑے گا۔

اگست 30, 2010 at 05:29 3 تبصرہ

لیلتہ القدر کی فضیلت

اگست 28, 2010 at 06:38 2 تبصرہ

اسرار الحق مجاز کے ادبی لطیفے

(1) رات کا وقت تھا۔مجاز کسی میخانے سے نکل کر یونیورسٹی روڈ پر ترنگ میں جھومتے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ اسی اثنا میں اُدھر سے ایک تانگا گزرا۔ مجاز نے اسے آواز دی،تانگہ رک گیا۔مجاز اس کے قریب آئے اور لہرا کر بولے: اماں ، صدر جاؤ گے؟ تانگے والے نے جواب دیا: ”ہاں ، جاؤں گا“

”اچھا تو جاؤ—–!“ یہ کہہ کر مجاز لڑھکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

(2) مجاز اور فراق کے درمیان کافی سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک دم فراق کا لہجہ بدلا اور انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا:

”مجاز! تم نے کباب بیچنے کیوں بند کر دیے؟“

”آپ کے ہاں سے گوشت آنا جو بند ہو گیا۔“مجاز نے اسی سنجیدگی سے فوراً جواب دیا۔

(3) مجاز تنہا کافی ہاؤس میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو ان کو جانتے نہیں تھے ،ان کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھے۔ کافی کا آرڈر دے کر انہوں نے اپنی کن سُری آواز میں گنگنانا شروع کیا:

احمقوں کی کمی نہیں غالب——–ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں

مجاز نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

”ڈھونڈنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے حضرت! خود بخود تشریف لے آتے ہیں۔“

(4) کسی مشاعرے میں مجاز اپنی غزل پڑھ رہے تھے۔ محفل پورے رنگ پر تھی اور سامعین خاموشی کے ساتھ کلام سن رہے تھے کہ اتنے میں کسی خاتون کی گود میں ان کا شیر خوار بچہ زور زور سے رونے لگا۔ مجاز نے اپنی غزل کا شعر ادھورا چھوڑتے ہوئے حیران ہو کر پوچھا:

بھئی!یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟

(5) سوز شاہجہانپوری ایک دن لکھنو کافی ہاؤس آ گئے اور مجاز کے میز پر آن بیٹھے۔ کہنے لگے: بھائی مجاز! میں نے اپنا مجموعہٴ کلام تو مرتب کر لیا ہے۔ اب اس کے لیے کسی موزوں نام کی تلاش ہے۔ کوئی ایسا نام ہو جو نیا بھی ہو اور جس میں میرے نام کی رعایت بھی ہو۔

مجاز نے برجستہ کہا: ” سوزاک رکھ لو۔“

(6) کسی صاحب نے ایک بار مجاز سے پوچھا: کیوں صاحب ! آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟

مجاز نے کہا: جی نہیں۔ پوچھنے والے نے کہا: کیوں؟ مجاز نے کہا: ” لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے۔ مگر میرے والدین سعادت مند ہیں۔“

اگست 27, 2010 at 05:29 1 comment

حضرت بابا بلھے شاہ (1680-1758)

حضرت بابا بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کا نمایاں ترین مظہر ہیں۔ آپ کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتبہ فکر سے تھا۔ آپ کی ذہنی نشوونما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لئے آپ کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔ ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لئے آپ کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔ بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ تھا۔ 1680ء میں مغلیہ راج کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہو ئے۔ کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد قصور کے قریب پانڈو میں منتقل ہو گئے۔

ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی۔ قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق ، نحو، معانی، کنز قدوری ،شرح وقایہ ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہوئے۔ مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ آپ کا جنون آمیز رشتہ آپ کی مابعد الطبیعات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ آپ کے وحدت الو جودی تھے، اس لئے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لئے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت آپ کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ آپ کی شاعری میں شرع اور عشق ہمیشہ متصادم نظر آتے ہیں اور آپ کی ہمدردیاں ہمیشہ عشق کے ساتھ ہوتی ہیں۔ آپ کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جس کے آگے شرع بند نہیں باندھ سکتی ۔

اپنی شاعری میں آپ  مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کرنے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماؤں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لئے اس کا گہرا اثر آپ کے افکار پر بھی پڑا۔ آپ کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی، اور عالم گیر محبت کا جو درس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔بلھے شاہ کا انتقال 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال آپ کی صوفیانہ شاعری کی عظمت کے گن گا کر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اگست 26, 2010 at 06:22 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry